بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/08/2026

دارالافتاء

 

طلاق کوشرط کےساتھ معلق کرنا


سوال

میری بیوی میرےپاس رہنانہیں چاہتی تھی،وہ اپنی ماں کےگھرگئی تھی،میں نےتقریباچارسال انتظارکیا،مگروہ راضی نہیں ہورہی تھی،پھرہمارےدرمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا۔

"اگرمیری بیوی30 جون2021ءتک مجھےقبول کرے،یعنی میرےساتھ اپنےگھرمیں یااس کی امی کےگھرمیں اوریاالگ گھرمیں رہناچاہے،توٹھیک ہے،اوراگروہ مجھےقبول نہ کرے،یعنی میرےساتھ رہنانہ چاہے،توپھرہمارایہ نکاح ختم ہوجائےگا،یعنی تین دفعہ طلاق پوری ہوجائےگی"۔یادرہےکہ اس سےپہلےمیں نےدومرتبہ الگ الگ موقع پرطلاق دی تھی،لیکن میں نےان الگ الگ دوطلاقوں کےبعداس کورجوع کیاتھا۔چنانچہ میری بیوی نے30 جون2021ءکومجھے میسج کیاکہ میں آپ کوقبول کرتی ہوں،اورمیں اپنی امی کےگھرمیں آپ کےساتھ رہناچاہتی ہوں،اوریہ میراآخری فیصلہ ہے،جس کومیں نہیں بدلوں گی،مگراس کےکچھ دنوں بعدوہ پھرانکارکرگئی،اورکہاکہ میں آپ کوقبول نہیں کرتی،توکیاہمارےدرمیان تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں یانہیں؟

جواب

             واضح رہےکہ جب طلاق کسی شرط کےساتھ معلق کی جائے،توشرط کےپائےجانےکی صورت میں طلاق واقع ہوجائےگی،اورشرط کےنہ پائےجانےکی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

             صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرواقعی تحریری شرط کےمطابق30 جون2021ءکوبیوی نےشوہرکومیسج کرکےیہ بتایاہو کہ میں آپ کےساتھ اپنی امی کےگھرمیں رہناچاہتی ہوں،توشرط نہ پائےجانےکی وجہ سےتیسری طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذاعورت حسبِ سابق شوہرکی منکوحہ رہےگی،اورشوہرکوایک طلاق کااختیارحاصل رہےگا۔

 

إذاأضافه إلی الشرط،وقع عقیب الشرط.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع:فی الطلاق بالشرط،ج1ص 420)


فتویٰ نمبر : 6339/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں