بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

والد کے ملکیتی پلاٹ میں اولاد کا حصہ


سوال

میرے نو (۹) بچے ہیں، ایک بیٹا شادی کرنے سے پہلے اور ایک بیٹا حال ہی میں فوت ہوا ہے۔ اس کے تین نابالغ بچے ہیں، جب کہ میرا ایک پلاٹ ہے ،توکیا  اس پلاٹ میں میرے بچوں اور مرحوم بیٹے کی بیوی کاکچھ حصہ ہے یا نہیں ؟

جواب

          واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا خود ہی مالک اور مختار ہوتا ہے ۔

           صورت مسئولہ میں سائل کی زندگی میں اولاد، بہو، پوتوں اور پوتیوں میں سے کوئی بھی اس کی ملکیت میں حصہ دار نہیں، البتہ اگر سائل اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ یتیم پوتوں کو بھی کچھ حصہ دے دے۔

 

الإرث يثبت بعد موت المورث ( البحرالرائق، کتاب الفرائض، ج:9، ص:364)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى ( الفتاوی الهندیة، کتاب الھبۃ، باب فی الھبۃ الصغیر، ج:4، ص: 416)


فتویٰ نمبر : 4841/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں