بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

تقسیم سے پہلے میراث میں اپنا حصّہ کسی کو دینا


سوال

 اگر ایک خاتون فوت ہو جائےاور اس کے ترکہ میں سونے کے زیور رہ جائیں۔ پھر اولاد اور شوہر مل کر مرحومہ کی ایک بیٹی کو یہ سب زیورات تقسیم سے پہلے دے دیں۔  جس کو وہ لے کر استعمال میں لائے، تو کیا اس كے بعد کوئی بھائی اس زیور میں اپنے حق کا مطالبہ کر سکتا ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ حقِ وراثت اضطراری حق ہے جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا،  چنانچہ تقسیم سے پہلے کسی  وارث کا  اپنا حصہ چھوڑنا  یا  اپنا حصہ کسی کودینا معتبر نہیں ۔البتہ جب ورثا کے مابین باقاعدہ  میراث تقسیم کردی جائے اور تقسیم کرلینے کے بعد ورثا اپنے اپنے حصے پر قبضہ کرلیں تو پھر اگر کوئی وارث اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

             لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مرحومہ کے ورثا کا اس کے  زیورات  کو تقسیم کرنے  سے پہلے  پہلے مرحومہ کی ایک بیٹی کو دینا معتبرنہیں چنانچہ بعد میں مرحومہ کا کوئی بھی بیٹا  اپنے حق کا  مطالبہ کرسکتا ہے۔

 

لَا يجوزالابراء عَن الاعيان، وَيجوز عَن دَعْوَاهَا۔ الإرث جبري لايسقط بالإسقاط۔(تكملة ردالمحتار ، كتاب الدعوی ، باب التحالف ، ج: 11 ص: 678)

اعلم أن الإعراض عن الملك  أو حق الملك ضابطه أنّه  إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما: تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك۔۔(غمز عيون البصائر شرح الأشباه و النظائر ، الفن الثالث: الجمع والفرق ، باب ما يقبل الإسقاط من الحقوق ، ج: 3 ص: 53)


فتویٰ نمبر : 3135/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں