بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

والدہ کا زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا


سوال

 ایک خاتون  زندگی میں اپنی جائیداد  اپنی اولاد کے مابین تقسیم کرے اور ان کو قبضہ بھی دےدے، پھر یہ خاتون  فوت  ہو جائے تو کیا کسی وارث کو بعد میں حق بنتا  ہے کہ وہ اس  والدہ کی زندگی میں  کی گئی تقسیم پر اعتراض کرے اور یہ کہے کہ مجھے میرا حق نہیں ملا ہے اس لیے دوبارہ تقسیم کی جائے؟ شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سے ہر شخص کواپنی زندگی میں مملوکہ  مال و  جائیداد  میں ہر قسم کے جائز  تصرفات کا حق حاصل ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ہوش وحواس میں اپنی  مملوکہ جائیداد اپنی اولاد کے درمیان  تقسیم کر کے ان کو  قبضہ بھی دے دے  ، تو یہ اس کی طرف سے احسان اور تبّرع( ہدیہ) شمار ہوتا ہے جو قبضہ سے تام ہو جاتا ہے۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی خاتون اپنی خوشی سے اپنی جائیداد  اپنی اولاد کے مابین تقسیم کرے اور  ان کو قبضہ بھی دے دے، تو والدہ کی وفات کے  بعد  کسی وارث کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ والدہ کی تقسیم پر اعتراض کرے اوردوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرے۔

 

ومنھا أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الأول، ج4، ص374، دارالفكر)

وقال مشائخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث۔(البحر الرائق، كتاب الفرائض، ج9، ص364، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4831/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں