بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

والدہ کابیٹیوں کومیراث کی نیت سےنقدرقم دینا


سوال

ایک والدہ نےاپنی دوبیٹیوں کومیراث کی نیت سےکچھ نقدرقم(ساڑھےچارلاکھ/450000)دیےاوران سےکہاکہ یہ تمہاراحق میراث ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ والدہ کےانتقال کےبعدمذکورہ بیٹیاں اس کی وراثت میں حق دارہوں گی یانہیں؟                                                           

جواب

               واضح رہےکہ اگرکوئی آدمی  زندگی میں اپنی اولادکواپنی جائیدادمیں سےکچھ حصہ دےدےتویہ اس کی طرف سےاحسان اورتبرع(ہدیہ)شمارہوتاہے میراث نہیں،کیونکہ میراث کسی آدمی کےانتقال کرجانےکےبعد مالِ متروکہ کو کہاجاتاہے۔

                صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی والدہ اپنی بیٹیوں کوزندگی میں کچھ نقدرقم میراث کی نیت سےدےدےتویہ اس کی طرف سےہدیہ شمارہوگا ہے میراث نہیں،چنانچہ والدہ کےانتقال کےبعداس کےترکہ میں دیگرورثاکےساتھ اِن بیٹیوں کابھی حصہ ہوگا۔

 

وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث.(البحرالرائق، كتاب الفرائض، ج:9، ص:364، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4830/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں