بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی پروگرام کی وجہ سے غیر معیار حفاظ کو حفاظ کی فہرست میں ڈالنا


سوال

جلسہ دستاربندی کو وقت کم ہونےکی وجہ سےمہتمم صاحب نے قاری صاحب کو کہاکہ فلاں طالب علم کوجلدی جلسہ کے لئے تیارکرو۔صرف  نیا سبق یاد کراتے جاؤ،سبقی اورمنزل  کا اہتمام نہ کرو،جسکی وجہ سے قرآن میں پختگی نہیں رہے گی،ممکن ہے کہ کل وہ قرآن بھول جائے۔تو ایسا کرنے کی ذمہ داری کس پر ڈالی جا سکتی ہے؟

جواب

            اگر کوئی شخص قرآن پاک یاد کرکےبغیر کسی عذر  شرعی کےبھول جائے  اور  قرآن  سے با لکل  منہ موڑےتو گناہ گار ہوگا ۔احادیث میں اس پرسخت وعیدمنقول ہے ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق  اگر جلسہ کے تیاری کےسلسلے میں طالب علم سے صرف نیاسبق یاد کروایا جائے،سبقی اور منزل کا اہتمام نہ ہوتو ماہرین فن کے مطابق اس طرح یاد کیا ہوا حصہ جلد بھول جاتا ہے،اس لئے بلا وجہ ایسا نہیں کرنا چاہئے،تاہم طالب علم کے پاس جلسہ کے بعد بھی یاد  کرنے کا موقع ہے،لہٰذا اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پورے قرآن پاک کواچھی طرح یاد  کرنے کااہتمام کرےاوراس سے غفلت نہ برتے،تاکہ بھول نہ جائے ۔اگر طالب علم غفلت برتتا ہوتو اس کاوبال اسی پر ہوگا،استاد یا مہتمم صاحب پر نہیں۔

 

حدثنا وكيع ، عن إبراهيم بن يزيد ، عن الوليد بن عبد الله بن أبي مغيث ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : عرضت علي الذنوب فلم أر فيها شيئا أعظم من حامل القرآن وتاركه۔(المصنف لابن أبی شیبة:کتاب فضائل القرآن،باب فی نسیا ن القرآن،رقم الحدیث: 30620،ج 15،ص456)

إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف۔(الفتاویٰ الہندیہ:کتاب الکراھیۃ،الباب الرابع فی الصلاۃ والتسبیح۔۔۔الخ،ج 5 ،ص364،دارالفکر)


فتویٰ نمبر : 4855/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں