بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نابالغ لڑکے کی اقتدا میں تراویح پڑھنا


سوال

کیا عورت نابالغ کڑکے کے پیچھے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

         واضح رہے کی امامت کے لیے بلوغ شرط ہے،اس لیے نابالغ لڑکے کو امام بنانا جائز نہیں۔جس طرح فرض نمازوں میں بالغ مقتدیوں کی امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ایسے ہی تراویح میں بھی امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ لہذا کوئی عورت نابالغ لڑکے کی اقتدامیں تراویح  نہیں پڑھ سکتی۔

 

ولا یصح اقتداء البالغ بغیر البالغ في الفرض وغیرہ، وهوالصحیح۔) غنیة المستملي، كتاب الصلاۃ،فصل في الإمامة،ص:444)

وأما الصبي فلا تجوز إمامته للبالغين ؛ لأنه متنفل وفي التراويح جوزه مشايخ بلخ وكذا في صلاة العيدين والكسوف ، والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها.(الجوهرة النيرة،كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،مطلب في الإمامة،ج:1،ص:163)


فتویٰ نمبر : 8944/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں