بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

وقف شدہ زمین میں میراث کا دعویٰ کرنا


سوال

ایک جگہ 1951ء میں مدرسہ کےلیے وقف کیا گیا تھا ۔ اس جگہ پر مدرسہ تعمیر کردیاگیا ہے۔ اب 70 سال بعد واقف کا ایک پوتا اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ کر تا ہے، کیا شرعاً اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ درست ہے؟

جواب

         واضح رہے كہ جب زمين كسى خاص مصرف كے ليے وقف كى جائے اورجس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو ، اس مقصد کےلیے  استعمال شروع ہوجائےتووقف تام ہوجاتاہے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین میں جب تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائےتووقف تام ہوجاتاہےاور وقف تام ہونے كے بعد موقوفہ زمين کی خرید وفروخت وغیرہ کے تصرفات کا اختیار ختم ہوجاتاہےنیزاس میں میراث بھی جاری نہیں ہوتی۔

       صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعی  زمین مدرسہ کے لیے وقف کی گئی ہو، اور اس میں تعلیم کا سلسلہ بھی مدت دراز سے چل رہاہو توچونکہ وقف تام ہوچکا ہےاس  لیے واقف کی اولاد یا پوتوں کا اس موقوفہ زمین  پر وراثت کا دعویٰ کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

 

قال ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه لأنه تجرد عن حق العباد وصارخالصالله تعالیٰ۔(الهداية، کتاب الوقف، ج:4، ص: 411)

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب: شرط الواقف كنص الشارع، ج:6، ص:649(

قال: وإن جعل أرضا له مسجدا لعامة المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه وإن مات لم يكن ميراثا" لأنه حرزها عن ملكه وجعلها خالصة لله تعالى.(المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:11، ص: 124)

)فإذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الوقف، ج:6، ص:531) 


فتویٰ نمبر : 3131/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں