بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت کرنا اور ان کو مبارکباد دینا


سوال

غیر مسلموں کے تہواروں میں شامل ہونا اور ان کو مبارکباد دینا کیساہے ؟

جواب

               واضح رہے کہ غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونا اور ان کے تہواروں کے موقع پر ان کو مبارکباد دینا  ان سے مودت و محبت کی علامت ہے،نیزشرکت ان کی جمعیت میں کثرت کا سبب  بھی ہے ,اس لیے یہ شرعا جائز نہیں ،اسی طرح  اس موقع  پر ان کو اس تہوار  کی تعظیم کی خاطر  مبارکباد دینا یا ان کو ہدایا دینا جائز نہیں ۔ بلکہ   اگرا س سے ان کے دین کی تعظیم  مقصود ہو تو اس میں کفر کا قوی  اندیشہ ہے ، لہذا مسلمانوں  کے لیے ضروری ہے  کہ وہ  غیر مسلموں کے ساتھ  یکجہتی  یا محبت کی غرض سے ان کے تہواروں میں شرکت  سے مکمل اجتناب  کریں ،تاہم جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں وہاں اگر محض کسی جائز مصلحت کی بناپر توریۃً مبارکباد دیا جائے ،جب کہ دل میں اس تہوارکی عظمت نہ ہو،تو اسکی گنجائش ہوگی۔

 

قال - رحمه الله -: (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لايجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام، بل كفر، وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله -: لو أن رجلًا عبد الله تعالى خمسين سنةً، ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضةً يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله، وقال صاحب الجامع الأصغر: إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لايكفر ولكن ينبغي له أن لايفعل ذلك في ذلك اليوم خاصةً ويفعله قبله أو بعده لكي لايكون تشبيهاً بأولئك القوم، وقد قال صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم  فهو منهم». وقال في الجامع الأصغر: رجل اشترى يوم النيروز شيئًا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لايكفر        ( البحر الرائق  ،ج:8،ص:555، (

"اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: "خوب رسمے نہادہ اند"، أو قال: "نیک آئیں نہادہ اند"  یخاف علیه الکفر"․ (الفتاوی التاتارخانیة، ج:7،ص:348)

وما یھدی المجوس یوم النیروز من أطعمتھم إلی الأشراف ومن کان لھم معرفة لا یحل أخذ ذلک علی وجہ الموافقة معھم وإن أخذہ لا علی ذلک الوجہ لا بأس بہ والاحتراز عنہ أسلم(الفتاوی البزازیة علی ھامش الھندیة، ج:6،ص:333)


فتویٰ نمبر : 4825/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں