بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 14/08/2026 |
دارالافتاء
قبضہ دیے بغیر بیٹوں کو ہبہ کی ہوئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ
سوال
زید نے تقریبا ً تین کنال پلاٹ خریدا اور وہ اپنے دو بیٹوں کے نام کردیا، پھر اس کے بعد زید نے اس پلاٹ میں سکول تعمیر کیا ، تقریباً تین سال تک سکول اپنی نگرانی میں چلادیا اور اس کے بعد اس کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد ان کے ایک بیٹے نے سکول کا انتظام سنبھال لیا اور تا حال سکول بیٹے کے زیرِ انتظام ہے۔ واضح رہے کہ زید نے جس وقت پلاٹ خریدا تھا اس وقت اس کے دونوں بیٹے بالغ تھے۔ زید جب تک زندہ رہا اس نے بیٹوں کو قبضہ نہیں دیا، اسی طرح سکول بھی زید کے نام تھا اور سکول کا مکمل انتظام بھی زید کے پاس تھا۔ بیٹوں کے علاوہ زید کی چھ بیٹیاں بھی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ (1) یہ پلاٹ والی جگہ جس پر سکول تعمیر ہوا ہے زید کے بیٹوں کا حق ہے یا بیٹیاں بھی اس میں حقدار ہیں؟
2-زید نے جو بزنس سکول کی صورت میں چھوڑا ہے اس میں اور سکول کی عمارت میں صرف زید کے دو بیٹوں کا حق ہے یا بیٹیاں بھی اس میں حقدار ہیں؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے اپنی ذاتی ملکیت کی چیز کسی کو بلا عوض دینا"ہبہ" کہلاتا ہے۔ اگر موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جارہا ہو) ہبہ کی ہوئی چیز پر واہب(ہبہ کرنے والے) کی زندگی میں قبضہ کرلے تو اس سے ہبہ تام ہوجاتا ہے اور موہوبہ چیز واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، لیکن اگر موہوب لہ نےواہب کی زندگی میں موہوبہ چیز پر قبضہ نہیں کیا تو صرف کاغذات میں کسی کے نام کرانے سے موہوبہ چیز میں موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ وہ بدستورواہب کی ملکیت میں رہتی ہے، اس لیے واہب کی وفات کے بعد اسے بھی میراث میں تقسیم کیا جائے گا۔
2-1لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے پلاٹ کو صرف بیٹوں کے نام کردیا ہو،لیکن اپنی زندگی میں ان کو قبضہ نہ دیا ہو اور وہ اس وقت بالغ بھی تھے تو زید کی وفات کے بعد یہ پلاٹ ترکہ شمار ہوگا، لہذا اس میں سب ورثا کا حصہ ہوگا ۔ اسی طرح سکول کی عمارت اور کاروبار جو زید نے چھوڑا ہے اس میں بھی تمام ورثا حقدار ہوں گے، چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں ہوں۔
وتنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل، لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب السابع في الهبة، المادة: 837، ص:462)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں