بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

ماں کی جان بچانے کی خاطر نفخِ روح کے بعد اسقاط حمل کا حکم


سوال

کیا نفخ روح کے بعد اسقاطِ حمل کی اجازت دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ جبکہ ماں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو۔

جواب

                شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان کے تحفظ اور احترام کی خاطر ناحق قتلِ نفس کو حرام قرار دیا ہے،خواہ وہ ماں کے پیٹ میں جنین  کی صورت میں کیوں نہ ہو ،چنانچہ جب ماں کے پیٹ میں حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعد اس کو بلا عذرساقط کرنا شرعاً جائز نہیں ،چاہے وہ حمل زنا سےہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ حمل اگر چہ زنا سے ہو پھر بھی وہ محترم ہے کیونکہ اس کا خود کوئی قصور نہیں ۔البتہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں زندہ ہو اور ماہر و دیندار ڈاکٹر حضرات کی کمیٹی اس بات پر متفق ہوجائے کہ اس کی وجہ سےماں کی جان کو خطرہ ہے اور اسقاط کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں، تو اس صورت میں اسقاطِ حمل کے جواز اور عدمِ جواز کے بارےمیں علمائے کرام کے دو موقف ہیں :

1۔ایک موقف یہ ہے کہ چار ماہ کے بعد اسقاطِ حمل کی کسی صورت گنجائش نہیں ، اگر چہ ماں کی جان کو خطرہ ہو ،اس لیے کہ فقہائے کرام ؒ کے نزدیک شدید ترین جبر واکراہ کے باوجود یہ جائز نہیں کہ انسان اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کی جان لے اسی طرح یہاں کیوں کر جائز ہوسکتا کہ ماں کی جان بچانے کے لیے بچے کو قتل کردیا جائے ۔

2۔ دوسرے علما فرماتے ہیں کہ اگر بچہ ماں کی پیٹ میں زندہ ہو اور ماہر تجربہ کار ڈاکٹر حضرات کی ایک کمیٹی کے کہنے کے مطابق اسقاط کے بغیر ماں کی زندگی بچنا ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اہون البلیتین (دو مشکلات میں گرفتار ہونے کی صورت میں کم درجے کے مشکل کو اختیار کرنا) پر عمل کرتے ہوئے اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے۔تاہم اس میں درج ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

1۔ماں كی جان کولاحق خطرے کے حوالے سے مشورہ اور رپورٹ دینے والے ڈاکٹرزحضرات اپنے فن کے ماہرہوں، مسلمان ہوں اوراس درجہ میں خوفِ خدابھی رکھتے ہوں کہ اُن سے اس طرح کے معاملات میں بے احتیاطی کے ساتھ مشورہ دینے کی توقع نہ کی جاسکے۔

2۔ الٹراساونڈ کرنے والا  ماہر ہو،  کیونکہ اس کی عدمِ مہارت کی وجہ سے رپورٹ میں غلطی کا امکان بڑھ سکتاہے۔

3۔ممکنہ حد تک نئی الٹراساونڈ مشینوں کےذریعے چیک اپ کروایا جائے ،تاكہ  غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔

4۔کسی انفرادی رائے پرفیصلہ نہ کیاجائے بلکہ دویااس سے زائدماہر ڈاکٹرز حضرات کی رائے لینے کے بعدفیصلہ کیاجائے۔

5۔رپورٹ سے یقینی طور پر یا غالب گمان کے طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ اگر حمل کو ماں کے پیٹ میں رہنے دیا گیا، تو ماں کی جان کو خطرہ ہے۔

6۔غالب گمان کے مطابق بچے کے زندہ بچنے کی کوئی امیدنہ ہو۔

7۔ سپیشلسٹ، ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کی کمیٹی  کی نظر میں ماں کی جان بچانے کاسوائے حمل کوضائع کرنے کےاور کوئی راستہ موجود نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں جب حمل ساقط نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان کوخطرہ لاحق ہواور ماہرین کے مطابق یہ خطرہ ظن غالب کے درجہ میں ہواورجنین کازندہ بچنابھی غالب گمان کے مطابق ممکن نہ ہو، تو مندرجہ بالا شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے چار ماہ گزرنے کے بعد بھی ماں کی جان بچانے کی خاطرحمل ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔

 

قال الله تعالى:  وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيِهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الفَسَادَ. (البقرة 205)

وقال: وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ. (الانعام: 151)

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم -وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ-: "إنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٍّ أَمْ سَعِيدٍ؛ فَوَاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ غَيْرُهُ إنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا. وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا". [الصحيح لمسلم كتاب القدر ، باب باب كيفية خلق الآدمي في بطن أمه، ج: 2 : 422)

إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا بارتكاب أخفهما ۔۔۔ قال الزيلعي في باب شروط الصلاة : ثم الأصل في جنس هذه المسائل أن من ابتلي ببليتين ، وهما متساويتان يأخذ بأيتهما شاء ، وإن اختلفا يختار أهونهما ; لأن مباشرة الحرام لا تجوز إلا للضرورة ولا ضرورة في حق الزيادة. (الاشباه والنظائر،حكم ما إذا تعارض ضرران أو مفسدتان: ص،111) ۔

ولا يخفي أنها تأثم إثم القتل لو استبان خلقه ومات بفعلها۔( رد المحتار علي الدر المختار،فصل في الجنين: 6/591)

"إذا كان الحمل قد بلغ مائة وعشرين يوماً، لا يجوز إسقاطه، ولو كان التشخيص الطبي يفيد أنه مشوه الخلقة، إلا إذا ثبت بتقرير لجنة طبية من الأطباء الثقات المختصين أن بقاء الحمل فيه خطر مؤكد على حياة الأم فعندئذ يجوز إسقاطه، سواء كان مشوهاً، أو لا، دفعاً لأعظم الضررين. (قرار المجمع الفقهي الإسلامي لرابطة العالم الإسلامي في دورته الثانية عشرة المنعقدة. بمكة المكرمة)

هل يجوز إسقاط (إجهاض) الجنين المشوه الذي متحقق موته بعد ولادته ؛ لأن التشوه كثيرا ۔۔۔:علما بأن المرأة حامل في شهرها الخامس ونفسيتها سيئة جدا ومتعبة من وضع جنينها ، فهل يجوز للأطباء إسقاطه.

أجابت بأنه لا يجوز إسقاط الحمل المذكور، لأن الغالب على أخبار الأطباء الظن، والأصل وجوب احترام الجنين وتحريم إسقاطه؛ ولأن الله سبحانه وتعالى قد يصلح حال الجنين في بقية المدة، فيخرج سليما مما ذكره الأطباء إن صح ما قالوه، فالواجب حسن الظن بالله (اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء)۔


فتویٰ نمبر : 4824/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں