بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/08/2026

دارالافتاء

 

عجمیوں میں کفائت كااعتبار


سوال

اگرلڑكالڑکی سےحسب اورنسب كےعلاوه سب چيزوں میں برترہوتوكياپھربھی شرعالڑکالڑکی کاکفو نہیں ہوتا،اورکیا اردو اسپیکرلڑکاسرائیکن لڑکی کاکفونہیں ہے، جب کہ اروداسپیکرلڑکاسرائیکن لڑکی سےہرچیزمیں برترہو؟

جواب

           واضح رہےکہ شریعت ایسےخاندانی نظام کی تشکیل کاخواہاں ہے،جس میں اطمنیان اورسکون ہو۔چنانچہ اسی مصلحت کےپیش نظرشریعت نےنکاح میں کفائت (برابری)کالحاظ رکھنےکواہمیت دی ہے،تاکہ نکاح پائیدارہواوربرقراررہے۔یہ کفائت عربوں میں نسب کےاعتبار سےہے،جب کہ عجم کےاندرکفائت نسبی کااعتبارنہیں،عجم میں آباو اجدادکےاسلام،آزادی،مال داری،دین داری اورپیشہ کفائت میں معتبرہیں،یعنی لڑکاان امورمیں لڑکی کاہم پلہ یااس سےزیادہ ہوتووہ لڑکی کاکفوشمارہوگا،زبانوں کے اختلاف کوکفائت میں کوئی  دخل نہیں۔

          لہذاصورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان اگرلڑکامذکورہ بالاامورمیں اس لڑکی کاہم پلہ یااس سےزیادہ ہو،صرف زبان دونوں کامختلف ہوتوکفائت میں اس سےکوئی فرق نہیں پڑےگا۔

 

(قوله ولأن انتظام إلخ) يعني أن المقصود من شرعية النكاح انتظام مصالح كل من الزوجين بالآخر في مدة العمر؛ لأنه وضع لتأسيس القرابات الصهرية ليصير البعيد قريبا عضدا وساعدا يسره ما يسرك ويسوءه ما يسوءك، وذلك لا يكون إلا بالموافقة والتقارب، ولا مقاربة للنفوس عند مباعدة الأنساب والاتصاف بالرق والحرية ونحو ذلك.(فتح القدیر، کتاب النکاح، باب الکفاءة، ج:3، ص:193)

(و) أما في العجم فتعتبر (حرية وإسلاما وأبوان فيهما كالآباء و تعتبر في العرب والعجم ديانة ومالا وحرفة).(تنويرالأبصار مع الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب الكفاءة، ج:3، ص:96-99، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 6336/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں