بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قضا نماز وں والے شخص كا استخاره کرنا


سوال

جس شخص کے ذمے قضانمازیں ہوں تو کیا وہ استخارہ کرسکتا ہے؟

جواب

        استخارہ کسی امر میں اللہ تعالی سے خیر طلب کرنے کا نام ہے۔ اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھ کر استخارہ کی دعا پڑھ لی جائے،اس کے علاوہ صرف استخارہ کی دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے۔چونکہ  استخارہ ایک دعا ہے جوکوئی بھی کسی بھی وقت کرسکتا ہے،لہذا جس شخص کے ذمے قضا نمازیں ہوں وہ بھی استخارہ کرسکتا ہے۔

 

عن جابر بن عبدالله قال كان رسول اللهﷺ يعلمنا الاستخاره في الأمور كلها كما يعلمنا سورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني قال ويسمي حاجته۔)الصحيح للبخاري،باب ما جاءفي التطوع، رقم:1162،56/2)


فتویٰ نمبر : 8995/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں