بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ہاتھ سےنجاست کی بُو آنےکے باوجود نماز پڑھنا


سوال

اگر كوئى شخص بيت الخلا سے فارغ ہو کر آئے اور اپنے ہاتھ دھو کر وضو کرے، لیکن باوجود دھونے اور وضو کرنے کے اس کے ہاتھوں سے نجاست کی  بُو آتی ہو تو کیا ایسی حالت میں نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب

   واضح رہے کہ وه نجاست جو دكھائى ديتى ہوپاک ہونے کے لیے اس کا زائل کرنا  ضروری ہے، چاہے ایک مرتبہ دھونے سے زائل ہو یا کئی مرتبہ دھونے سے زائل ہو، البتہ اگر اس کا اثر مشقّت کے بعد بھی زائل نہ ہو، تو اثر کا باقی رہنا معاف ہے۔

  صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص  اپنے ہاتھ دھو کر وضو کرے، لیکن باوجود دھونے اور وضو کرنے کے اس کے ہاتھوں میں بد بوُ باقی رہے ، تویہ معاف ہے اور ایسی حالت میں نماز پڑھنا  جائز ہے۔

 

وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول كذا في السراجية وإن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته هكذا في التبيين وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار هكذا في السراج الوهاج وإذا غمس الرجل يده في السمن النجس أو أصاب ثوبه ثم غسل اليد أو الثوب بالماء من غير حرص وأثر السمن باق على يده يطهر وبه أخذ الفقيه أبو الليث وهو الأصح هكذا في الذخيرة۔ ( الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة و أحكامها، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، ج1، ص96)

( فما كان منها مرئيا فطهارته زوال عينها ) لأن النجاسة حلت المحل باعتبار العين فتزول بزوالها ( إلا أن يبقى من أثرها ما تشق إزالته ) لأن الحرج مدفوع ۔ ( العناية شرح الهداية، كتاب الطهارة، باب الأنجاس و تطهيرها، ج1، ص339)


فتویٰ نمبر : 8973/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں