بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مستحق شخص کامال زکوٰۃلینا


سوال

ایک آدمی زکوٰۃ دیتا ہےاورلینے والا زکوٰۃ کا مستحق نہیں اور زکوٰۃ لینے والایہ جانتا ہے کہ میں زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوں اور وہ زکوٰۃ لے کر کسی دوسرے مستحق تک پہنچادیتا ہےتو کیا زکوٰۃ ادا کرنے والے کی زکوٰۃ ادا ہوگئی یا نہیں؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سےصحت زکوٰۃ کے لئے ضروری ہےکہ مال زکوٰۃ کسی فقیر کو تملیکاً دی جائے،البتہ اگر غالب گمان کے مطابق کسی نے مستحق شخص کو زکوٰۃ دی اور بعد میں وہ غیر مستحق ثابت ہواتوزکوٰۃدینے والے کی زکوٰۃ اداہوگی۔

          لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرزکوٰۃ دینے والے کےغالب گمان کے مطابق زکوٰۃلینے والا مستحق زکوٰۃ تھاتو اس کی زکوٰۃ ادا ہوگئی ہےلیکن اگر اس کو یقین یا غالب گمان تھا کہ لینے والا غیر مستحق ہےتو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔نیز زکوٰۃ لینے والا اگرمستحق نہ تھااور اسے علم تھا کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے تواس کےلئے  لیناجائزنہیں تھا،لہٰذااس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر دینے والااسے معلوم ہوتو یہ  مال اس کو   واپس کرے، مستحقین کو نہ دےکیونکہ مستحقین تک پہنچانےکا اس کو وکیل نہیں بنایا گیا ہےلیکن اگر مالک معلوم نہ ہوتو ذمہ فارغ کرنے کے لئےمستحقین زکوٰۃ کو دےدے۔

           

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي۔۔۔(الفتاوی الہندیة،کتاب الزکوٰۃ،باب في تفسيرها وصفتها وشرائطها،ج:1،ص:232)

لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم(الفتاوی الہندیة:کتاب الزکوٰۃ،باب في المصارف،ج:1،ص:253)

إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع، وكذا إن لم يظهر حاله عنده، وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى (الفتاوی الہندیة:کتاب الزکوٰۃ،باب 1 ،في المصارف،ج1 ص253)

والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیہم وإلافإن علم عین الحرام لا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب فیمن ورث مالا حراماً،ج:7،ص:301،دارالکتب العلمیۃ بیروت)


فتویٰ نمبر : 8984/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں