بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنا
سوال
داڑھی کی مقدار کیا ہے ؟کفایت المفتی کے ایک فتوی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مٹھی سے اتنا کم کرنا کہ وہ واضح طور پر ایک مٹھی سے کم معلوم نہ وہ تا ہو تو یہ مکروہ ِتحریمی نہیں ۔کفایت المفتی کا فتوی درج ذیل ہے:
میرا خیال یہ ہے کہ داڑھی منڈانا یا منڈی ہو ئی کے قریب کتروانا حرام یا مکروہ تحریمی ہے کیو نکہ یہ امر اعفو اللحی کے خلاف ہے ۔اورایک مشت رکھنا مسنون ہے اور اس مقدارسے زیادہ کتروانا جائزہے۔اور یکمشت کی مقدار احادیث سے ثابت ہے اور وہ احادیث ظنی ہے اس لیے اس مقدار کو فرض یا واجب قرار دینا مشکل ہے،کہ اس کے خلاف کو فسق کہہ دیا جائے۔ ایک مشت کی مقدار کو میں مسنون کہتا ہوں اور اس کے خلاف کو مکروہ بھی کہتاہوں،مگر ایک مشت سے اتنی کمی کہ وہ دور سے ممیز نہ ہوسکے میرے خیال میں مکروہ اور ناجا ئز ہونے کے باوجود اس قابل نہیں کہ موجب فسق اور مکروہ تحریمی قراردیاجائے،ہاں مکروہ تنزیہی اور خلاف سنت کہہ سکتے ہیں، البتہ اتنی کمی کہ وہ بین طور سے یکمشت سے کم ہواورمنڈی ہوئی کے مشابہہ ہوجائے وہ مکروہ تحریمی کی حد میں پہنچ جاتی ہے۔جوعبارتیں فقہا کی نقل کی جاتی ہےان میں یکمشت کی کمی کی ان صورتوں کا حکم بیان کیا جا تاہے جو بین اور ممیز طور پر کمی کی ہے،اورجن کومشابہت بالنساء کے تحت داخل کیاجا سکتاہے وہ لعنت کے ماتحت میں آئیں گی۔ یہ بات میری اور ہر سمجھدار شخص کی سمجھ سے باہر ہے کہ جس شخص کے چہرے پر داڑھی ہے اوروہ یکمشت سے بقدر ایک ادھ انچ کم ہے اس کو کوئی شخص متشبہہ بالنساء قرار دیکر ملعون قرار دے سکے۔ یہ ظاہرہے کہ حدیث اعفواللحی سے اعفاء یعنی داڑھی بڑھانے کا حکم ثابت ہے لیکن یہ بھی یقینی ہے کہ اعفاء سے مرادغیرمحدودبڑھانا نہیں ہے،کیونکہ یکمشت سے زیادہ کتروانا بالاتفاق جائزہے،بلکہ طول فاحش کو بعض فقہانے مکروہ اور خفت عقل کی دلیل بھی قرار دیاہے،توجب غیرمحدودبڑھانامراد نہیں ہے تو کس قدر بڑھانالازم ہے ا س کی تحدید صرف ایک قبضہ والی روایت سے ہوسکتی ہے،لیکن وہ ظنی ہے یعنی اس مرتبے میں نہیں ہے کہ اس کو تحدیداعفاء کے لئے دلیل بنایاجاسکے، کیونکہ وہ فعلی روایتیں ہیں۔جن کا مفاد یہ ہو سکتاہے کہ قبضہ تک رکھ کر زیادہ کو کٹوانا ثابت ہے، لیکن قبضہ فرض ہے مسنون یا مستحب ہے اس کا فیصلہ ان حدیثوں سے نہیں ہو سکتا اس لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ایک قبضہ کی حد کو مسنون قرار دیا جائے اور حلق یا قطعِ فاحش کو بوجہ مشابہت بالنساءیا مشابہت بالعجم کے مکروہِ تحریمی کہا جائے اور قطع ِیسیر غیر متمیز کوخلافِ سنت یا مکروہ ِتنزیہی کہا جائے۔
جواب
داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ حضورﷺ نے اپنی امت کو مشرکین کی مخالفت میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔آپﷺ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنھم سے ایک مٹھی تک رکھنا اور اس سے زائد بالوں کا کاٹنا منقول ہے، اس لیے فقہائے احناف کے ہاں ایک مٹھی داڑھی رکھنا ضروری اور واجب ہے، جب کہ اس سے زائد کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک مٹھی سے کم کرنا چونکہ کسی سے ثابت نہیں، اس لیے یہ حرام ہے۔ داڑھی منڈاشخص اور ایک مٹھی سے کم کرنےوالاشخص واجب سے منہ موڑنے کے سبب فاسق کے زمرے میں داخل ہے۔
جہاں تک سوال میں مذکور فتویٰ کا تعلق ہے تواسے حضرت رحمہ اللہ کا تفرد قرار دیا جائے گا۔
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها۔(جامع الترمذى، أبواب الاستذان والآداب، باب ماجاء في الأخذ من اللحية،ج:2،ص:565)
عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه۔(الصحيح للبخاري، كتاب اللباس، باب قص الشارب، ج:2، ص:875)
خالفوا المشركين أراد بهم المجوس يدل عليه رواية مسلم خالفوا المجوس لأنهم كانوا يقصرون لحاهم ومنهم من كان يحلقها۔(عمدة القاري، باب تقليم الأظفار، ج:10، ص:349)
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم، مطلب في الأخذ من اللحية، ج:3، ص:398)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں