بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

سعودی عرب کے 13ذی الحجہ اور ہندوستان کے 12ذی الحجہ پر قربانی کرنا


سوال

سعودی عرب سے ایک شخص بقر عید کے تیسرے دن ہندوستان آیا جبکہ ہندوستان میں دوسرا دن تھا۔تو کیا وہ ہندوستان میں قربانی کر سکتا ہے،کیونکہ اس شخص کا سعودی عرب کے حساب سے چوتھا د ن ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ قربانی کے نفس وجوب کے بعد صحت قربانی کے لیے مقام قربانی میں  ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے،اس لیے اگر کوئی شخص سعودی عرب سے اپنے وطن ہندوستان میں تیرہ(13)ذی الحجہ کے دن آئے اور ہندوستان میں بارہ(12)ذی الحجہ ہو تو ایسے شخص کےلیے قربانی کرنا جائز ہے۔

 

(وسببها الوقت) وهو أيام النحر۔(الدرالمختار مع تنويرالأبصار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:453)

والمعتبرمكان الأضحية لا مكان المضحي۔(الفتاوی البزازية،كتاب الأضحية،الفصل الثالث في وقتها،ج:2،ص:408)


فتویٰ نمبر : 8956/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں