بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی تک کرنسی کی قیمت کم ہوجانا


سوال

میں نے ایک شخص سے سترہ 17 لاکھ تومان ( ایرانی کرنسی) قرض لیاتھا، اب تقریبا سولہ 16 سال بعد میں قرض ادا کر ناچاہتا ہوں اور آج کل کے تومان ( ایرانی کرنسی) کی قیمت اس وقت کے مقابلے میں بہت کم ہے، تو میں یہ قرض اس وقت کے تومان کی قیمت سے ادا کروں یا اس وقت کے تومان کی قیمت سےادا کروں؟

جواب

          واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی سےبطور قرض کچھ رقم لے لے تو واپسی میں اتنی ہی رقم لوٹانا ضروری ہےجتنی لی تھی۔

         صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ شخص نے جوسترہ لاکھ تومان ( ایرانی کرنسی) قرض لیے تھے ،اب کچھ عرصہ بعدقرض کی واپسی پر سترہ 17 لاکھ تومان ہی ادا کرنا لازم ہے،اگر چہ اس کی قیمت کم ہوگئی ہواور اگر دونوں کسی اور کرنسی کی صورت میں ادائیگی و وصولی پر متفق ہوجائیں تو ایسی صورت میں موجودہ کرنسی کا اعتبار ہوگا۔

 

 فإن الديون تقضى بأمثالها۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الشرکة،مطلاب في قبول قوله دفعت المال۔ج:6،ص:495)

(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم،و تصرف بها،ثم غلا سعرها،فهل عليه رد مثلها؟(الجواب) نعم ولا ينظرإلى غلاالدراهم ورخصها۔(تنقيح الحامدية،باب القرض،ج:1،ص:294)

وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها۔(ردالمحتار،کتاب البیوع،باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،7/390)


فتویٰ نمبر : 2928/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں