بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سابقہ منگیتر کی بیٹی سے نکاح کرنا


سوال

ایک عورت عالیہ کے ساتھ رشید کی منگنی ہوئی ۔بعد میں منگنی ٹوٹ گئی۔ بیس( 20 )سال بعد  کیا عالیہ کی بیٹی انعم کا نکاح رشید کے ساتھ ہو سکتا ہے جبکہ رشید عالیہ کا منگیتر تھا اور رشید 50 سال کا ہے جبکہ عالیہ کی بیٹی عابدہ 17 سال کی ہے ؟

جواب

           واضح رہے کہ منگنی  کے وقت اگر گواہوں کی موجودگی  میں باقاعدہ  ایجاب وقبول  ہو جائے تو ایسی صورت میں نکاح منعقدہوجاتا ہے   اور اگر منگنی میں ایجاب وقبول نہ ہو تو  یہ محض   وعدہ نکاح  شمار ہوتا ہے۔

          صورت مسئولہ میں   اگر  رشید اور عالیہ کے مابین صرف منگنی ہوئی تھی ، باقاعدہ طور پر ایجاب وقبول نہ ہوا تھا اوربعد میں دونوں کی منگنی ٹوٹ گئی   یا دونوں  کا  نکاح ہوا تھا  لیکن  ہمبستری  یا شہوت  کے ساتھ لمس وتقبیل  نہ ہوئی تھی  اور پھررشتہ  ٹوٹ گیا تھا تو محض نکاح سے عالیہ کی بیٹی  رشید پر حرام نہیں لہذا رشید اور انعم کا نکاح جائز ہوگا ۔ تا ہم اگر رشید اور عالیہ کے آپس میں ہمبستری شہوت سے لمس وتقبیل ہوئی تھی  تو اس صورت میں اس عالیہ  کی بیٹی رشید  کے لیے حرام ہوگی۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي ۔ ۔ ۔ ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين۔(الھدیة، كتاب النكاح، ج:2، ص:325)

قال ابن عابدين: قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، مطلب كثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة، ج:4، ص:72)

قوله ( بنت زوجته الموطوءة ) أي سواء كانت في حجره أي كنفه ونفقته أو لا ذكر الحجر في الآية خرج مخرج العادة أو ذكر للتشنيع عليهم كما في البحر۔ واحترز بالموطوءة عن غيرها فلا تحرم بنتها بمجرد العقد۔ وفي ح عن الهندية أن الخلوة بالزوجة لا تقوم مقام الوطء في تحريم بنتها اه۔ قلت: لكن في التجنيس عن أجناس الناطفي قال في نوادر أبي يوسف إذا خلا بها في صوم رمضان أو حال إحرامه لم يحل له أن يتزوج بنتها وقال محمد يحل فإن الزوج لم يجعل واطئا حتى كان لها نصف المهر اه وظاهره أن الخلاف في الخلوة الفاسدة أما الصحيحة فلا خلاف في أنها تحرم البنت تأمل (ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب النكاح، فصل فی المحرمات، ج:4،ص:104)


فتویٰ نمبر : 6337/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں