بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض میں سو کر طہر کی حالت میں جاگنے والی کی نماز کا حکم


سوال

ایک خاتون جس کو حیض آرہا ہے۔وہ رات کو سوگئی اور سورج طلوع ہوجانے کے بعد کسی بھی وقت اٹھی تو دیکھاکہ حیض ختم ہوچکا ہے؟ کیا وہ عشاء اور فجر کی قضاء نماز پڑھے گی کیونکہ پتا نہیں حیض کب رکا ہے۔

جواب

          واضح رہے كہ جب کوئی عورت حالت حیض میں سو جائے اور پاکی کی حالت میں بیدار ہو تو اس پر  سونے  کے وقت سے پاکی کا حکم لگایا جائے گا لیکن اگر کوئی عورت پاکی کی حالت میں سو جائے اور حائضہ ہو کر بیدار ہو تو بیدار ہونے کے وقت سے وہ حائضہ شمار ہوگی۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی عورت حالت حیض میں سو جائےاور اگلے دن سورج طلوع ہونے کے بعد کسی بھی وقت پاکی کی حالت میں بیدار ہو جائے تو وہ نماز عشاء اور نماز فجر دونوں کی  قضاء کرے گی۔البتہ اگر وہ رات کوایسے وقت میں بیدار ہوئی کہ نماز عشاء کا وقت باقی تھاتو طہر کے یقینی ہونے کے بعد غسل کرکے نماز عشاء پڑھےلے۔

 

وفي الفيض: لو نامت طاهرة وقامت حائضة حكم بحيضها منذ قامت وبعكسه منذ نامت احتياطا. (قوله وبعكسه) أي عكس التصوير المذكور، بأن نامت حائضا وقامت طاهرة: أي وضعت الكرسف ونامت فلما أصبحت رأت عليه الطهر لا عكس الحكم؛ لأنه بينه بقوله منذ نامت: أي حكم بحيضها من حين نامت فافهم (قوله احتياطا) أي في الصورتين، فتقضي العشاء فيهما إن لم تكن صلتها كما في البحر؛ حتى لو نامت قبل انقضاء الوقت ثم انتبهت بعد خروجه حائضا يجب عليها قضاء تلك الصلاة؛ لأنا جعلناها طاهرة في آخر الوقت حيث لم نحكم بحيضها إلا بعد خروجه، ولو نامت حائضا وانتبهت طاهرة بعد الوقت يجب عليها قضاء تلك الصلاة التي نامت عنها؛ لأنا جعلناها طاهرة من حين نامت، وحيث حكمنا بطهارتها في آخر الوقت وجب القضاء ولأن الدم حادث والأصل فيه أن يضاف إلى أقرب أوقاته فتجعل حائضا منذ قامت؛ والانقطاع عدم وهو الأصل فلا يحكم بخلافه إلا بدليل ولم يعلم درور الدم في نومها فجعلت طاهرة منذ نامت، فقد ظهر أن الاحتياط في الوجهين لا في العكس فقط رحمتي فافهم،(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج:1، ص:485)


فتویٰ نمبر : 8941/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں