بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کے اثاثوں کو ترکہ میں تقسیم کرنے کی وصیت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ کہہ دے کہ میرے فلاں بیٹے نے ملازمت سے  جو پیسے کما کر اس   سے جو اثاثے خریدے ہیں جب میراث کی تقسیم کا وقت آئے تو وہ بھی تقسیم ہوں گے۔ کیا بیٹے کے یہ اثاثے میراث میں تقسیم ہوں گے؟

جواب

         شرعی نقطہ نظر سے میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوں گے، یعنی جو چیز میت کی  ملکیت ہو اور اس کے ساتھ غیر کا حق متعلق نہ ہو وہ ورثا میں بقدرِ حصص شرعیہ تقسیم کی جائے گی اور جو چیز میت کی ملکیت میں نہ ہو اس میں میراث کے احکام جاری نہ ہوں گے۔اسی طرح  وصیت بھی اُسی چیز کی صحیح ہوتی ہےجو موصی (وصیت کرنے والے) کی ملکیت میں ہو۔ جو چیز موصی کی ملکیت میں نہ ہو اس کی وصیت کرنا بھی صحیح نہیں۔

            لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بیٹے نے ملازمت سے حاصل کی گئی ذاتی  رقم سے اپنے لیے اثاثے خریدے ہوں اور وہ اس کی ذاتی ملکیت میں ہوں تو ان اثاثوں کو میراث میں تقسیم کرنے کے متعلق والد کی وصیت نافذ نہ ہوگی اور یہ اثاثے میراث میں تقسیم نہ ہوں گے، البتہ اگر ملازمت کی رقم والد کی ملکیت میں دی ہو اور اس نے اس سے اثاثے خریدے ہوں تو ان اثاثوں کو میراث میں تقسیم  کیا جائے گا۔

 

لأن التركة ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔ (ردالمحتار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:493)

لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔( شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:96، ص:61)


فتویٰ نمبر : 3124/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں