بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مزنیہ عورت کا زانی کے بیٹے سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص ایک عورت سے ساتھ زنا کرتا رہا اب وہ مرد فوت ہوگیا مرد کے فوت ہونے کہ بعد عورت کا نکاح زانی مرد کے بیٹے سے کردیا گیا ہے  کیا یہ نکاح جائز ہے ؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے ، تو فقہائے احنافؒ کے نزدیک اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی ، چنانچہ جس عورت سے زنا کیا گیا وہ زانی کےاصول (باپ، دادا، وغیرہ) اور اس کے فروع(بیٹے، پوتے وغیرہ) پر حرام ہو جاتی ہے ، اسی طرح اس عورت کے اصول(ماں، نانی وغیرہ)اور اس کی اولاد نیچے تک خواہ رضاعی ہوں یا نسبی ہوں سب زانی مرد پر حرام ہیں۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اس عورت  سے جس مرد نے زنا کیا ہے اس   زانی  مرد کے  بیٹے  سے اس كا نکاح   کرنا جائز نہیں۔

 

أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:4،ص:107)

(و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا، والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته، به يفتى. وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قلبه أو زيادته. وفي الجوهرة. لا يشترط في النظر للفرج تحريك آلته. به يفتى هذا إذا لم ينزل، فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة، به بفتى.(الدر المختار علی صدر ردالمحتار،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:4،ص:107تا109)


فتویٰ نمبر : 6321/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں