بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
اللہ تعا لی کو" کن فیکون" کہنا
سوال
ایک شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کو "کن فیکون" کہنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ کن خالق اور فیکون مخلوق ہے پہلے اللہ کو خالق اور پھر مخلوق کہتے ہیں اس بات کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعا لی کے تمام اسما توقیفی ہیں ۔توقیفی کا مطلب یہ ہے کہ جو قران وحدیث میں پہلے سے مذکور ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کو انہی ناموں کے ساتھ پکارا کرو۔
صورت مسئولہ کے مطابق اللہ کو "کن فیکون" کہنا اگراس طور پر ہو کہ یہ اللہ تعالی کی عظمت و بڑھائی پر دلالت کرنے والے کلمات ہیں اور اس سے مقصود اللہ کی صفت قدرت کے کمال کا بیان ہویعنی کہ اللہ کوہر چیز فوری طور پر پیدا کرنے کا اختیاراور قدرت حاصل ہے ،اور اس کے پیدا کرنے میں کسی آلہ یا کسی سبب کی طرف محتاج نہیں تو اس طورپر یہ الفاظ کہےجا سکتے ہیں تاہم یہ بطور اسم صفت نہ ہوں گے۔
﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾۔۔۔أي يحدث وهذا عند الأكثرين تمثيل لتأثير قدرته في مراده بأمر المطاع للمطيع في حصول المأمور من غير امتناع وتوقف وافتقار إلى مزاولة عمل واستعمال آلة، فالممثل الشيء المكون بسرعة من غير عمل وآلة، والممثل به أمر الآمر المطاع لمأمور به مطيع على الفور، وهذا اللفظ مستعار لذلك منه.(تفسير روح المعاني، سورةآل عمران،الآية 47،ج3،ص164)
هي كل معظمة في كل لغة لرجوعها إلی ذات واحدة، فان اسم الله لا يعرف العرب غيره،وهو بلسان فارس "خداي وبلسان الحبشة"واق"وابحث علی هذا في سائرالألسن، تجد ذلك الاسم الإلٰهي معظمافي كل لسان من حيث ما يدل عليه۔(اليواقيت والجواهر،ص105)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 245
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 575
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 411
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں