بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زہر سے شفا کے لیے عجوہ کھجور استعمال کرنا


سوال

حدیث میں آیا ہے عجوہ کھجور کے سات دانے کھانے سے زہر اثر نہیں کرتا،  اشکال ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسے بے شمار زہر ہیں جن کا علاج نہیں اور اس سے انسان کی یقینی موت ہو جاتی  ہے حتی کہ ایک قطرے سے بھی کم زہر انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے اب سوال یہ ہے کہ اس کھجور میں جس زہر کے لئے شفاء ہے وہ کوئی مخصوص زہر ہے یا ہر زہر سے شفاء ہے؟ اور زہر کے  اثرات سے کیا مراد ہے؟

جواب

         واضح رہے  کہ علاج کے سلسلے میں احادیث میں جو ہدایات ذکر ہوئی ہیں وہ   وجوب اور لزوم کا درجہ نہیں  رکھتیں ، کیونکہ دوا و علاج کی تجویز میں  ہر شخص کے علاقے اور  ماحول، اسی طرح مریض کے اپنے مزاج اور طبیعت کو  مدنظر  رکھنا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا ان امور کو سامنے رکھتے ہوئے نیز  کسی ماہر معالج کے مشورے کے ساتھ ان ہدایات  پر عمل کرنا بلاشبہ  درست اور فائدہ مند ہوگا، تاہم  کسی شخص کو  اگر طبّ کے اُصولوں سے آگاہی نہ ہو تو اسے  صرف نسخہ دیکھ کر دوسروں کا علاج نہیں کرنا چاہیے کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ علاج کے طریقے بلاشبہ  درست ہیں، لیکن انسان اپنی ناتجربہ کاری سے نقصان اُٹھا سکتا ہے یا کسی کا نقصان  کرسکتاہے۔  نیز دوا و علاج کی تاثیر میں مریض کے اعتقاد ،   دوا کی مقدار  اور مرض کی کیفیت  کو بھی خاص دخل ہوتا ہے ، لہذا ان امور کا لحاظ رکھنابھی  ضروری ہے۔

    مذکورہ بیان کے بعد سوال میں مذکورحدیث کا مطلب بھی اسی طرح سمجھ لیا جائےاور اس کو عموم پر نہ لیا جائے بلکہ طب سے متعلقہ افراد کی رائے کے مطابق  حدیث کا مطلب  بیان کیاجائے۔

 

(وكذب بطن أخيك) : أي أخطأ تقول العرب: كذب سمعي إذا أخطأ، وأراد بخطئه عدم حصول الشفاء له، وذلك لأن نيته في شربه لم تكن خالصة أو لأن الدواء لم يعمل عمله، ذكره ابن الملك. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الطب والرقى، ج:7، ص:286)

فقال: (صدق الله، وكذب بطن أخيك) . فيه أن ماجعل الله فيه شفاء من الأدوية قد يتأخر تأثيرة فى العلة حتى يتم أمره وتنقضى مدته المكتوبة فى أم الكتاب. وقوله: (صدق الله وكذب بطن أخيك) يدل أن الكلام لايحمل على ظاهره ولو حمل على ظاهره لبرىء المريض عند أول شربة العسل، فلما لم يبرأ إلا بعد تكرر شربه له دل أن الألفاظ مفتقرة إلى معرفة معانيها، وليست على ظواهرها. (شرح صحيح البخارى لابن بطال، كتاب الطب، باب دواء المبطون، ج:9، ص:416)

(صدق القرآن وكذب بطن أخيك) وقال بعض العلماء فى قوله: (شفاء للناس) المعنى فيه شفاء لبعض الناس. وتأولوا الآية. وحديث جابر وأبى سعيد على الخصوص. وقالوا: الحجامة وشرب العسل والكى إنما هو شفاء لبعض الأمراض دون بعض، ألا ترى قوله عليه السلام: (أو لذعة بنار توافق الداء) فشرط موافقتها للداء فدل هذا أنها إذا لم توافق الداء فلا دواء فيها، وقد جاء فى القرآن مالفظه العموم والمراد به الخصوص كقوله تعالى: (وماخلقت الجن واإنس إلا ليعبدون) يريد المؤمنين منهم لقوله تعالى: (ولقد ذرأنا لجهنم كثيرا من الجن والإنس) أى: خلقنا، وقال تعالى فى بلقيس: (وأوتيت من كل شىء) ولم تؤت ملك سليمان، ومثله كثير. (شرح صحيح البخارى لابن بطال، كتاب الطب، باب الدواء بالعسل...، ج:9، ص:395)


فتویٰ نمبر : 4990/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں