بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حالت روزہ میں برف کےٹکڑےکھانےکاحکم
سوال
ایک شخص نےرمضان کےمہینے میں روزہ کی حالت میں فریج کےبالائی حصہ پرجمع شدہ برف کےچھوٹےچھوٹےٹکڑےدوتین لپ بھرکرکھائےہیں،اوراس کویہ پتہ نہیں تھا کہ اس سےروزہ ٹوٹ جاتاہے،توکیاشرعااس پرکفارہ لازم ہےیانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ جب کوئی شخص رمضان کےمہینےمیں قصداکھائے یا پیےتواس پرقضاکےساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا،تاہم اس میں شرط یہ ہےکہ وہ ایسی چیزکھالےیاپی لے،جسےلوگ عادۃً کھانےپینے،دوائی یاتلذّذکےطورپراستعمال کرتےہوں،اوراگرایسی چیزکھالےیاپی لےجوعادۃً کھانےپینے،دوائی یاتلذّذکےطورپراستعمال نہ ہوتی ہو،توایسی صورت میں صرف اس دن کی قضالازم ہوگی،اورکفارہ لازم نہیں ہوگا۔
صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکسی شخص نےرمضان کےروزہ کی حالت میں برف کےٹکڑےکھائےہوں،تواس پراس دن کی قضاکےساتھ کفارہ بھی لازم ہے۔اس سلسلہ میں ایک مسلم معاشرےمیں رہ کروجوب کفارہ وقضاسےلاعلمی کوئی قابل قبول عذرنہیں۔
إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء كذا في خزانة المفتين فالصائم إذا أكل الخبز أو الأطعمة أو الأشربة أو الأدهان أو الألبان أو أكل إهليلجة أو مسكا أو زعفرانا أو كافورا أو غالية عليه القضاء والكفارة عندنا.(الفتاوی الھندیة،کتاب الصوم،باب مایفسدالصوم ومالایفسدالصوم،النوع الثانی:مایوجب القضاءوالکفارۃ،ج1ص267)
قوله ( ما يتغذى به ) أي ما من شأنه ذلك كالحنطة والخبز واللحم وإنما عد الماء منه وهو لا يغذو لبساطته لأنه معين للغذاء.(ردالمحتار،کتاب الصوم،باب مایفسدالصوم ومالایفسدہ،ج3ص386)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں