بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جبری نکاح کاحکم


سوال

اگروالدین اپنےبچوں کانکاح زبردستی کروادیں،تواس کاکیاحکم ہے،حالانکہ اسلام نےجبری شادی کرانےسےمنع کیاہے؟

جواب

            شرعی نقطہ نظرسےعاقل اوربالغ بچوں کےنکاح میں ان کی رضامندی ضروری ہے،چنانچہ ان کی رضامندی معلوم کیےبغیرکرایاجانےوالانکاح ان کی  رضامندی پرموقوف رہتاہے۔تاہم اگربالغ بچےوالدین کےمطالبہ کرنےپرمجبورابادلِ ناخواستہ ایجاب وقبول کرلیں،تونکاح منعقدہوجائےگا۔

اوراگرنابالغ لڑکےیالڑکی کانکاح  والدیاداداکروادے،تووہ منعقدہوجاتاہے،اوران کوبلوغ کےبعدنکاح فسخ کرنےکااختیارحاصل نہیں ہوتا،جب کہ والداورداداکےعلاوہ کوئی اورولی اگرنابالغ لڑکےیالڑکی کانکاح کروادیں،توبلوغ کےبعدان کوفسخ کااختیارحاصل ہوگا۔

 

لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته جاز وإن ردته بطل.(الفتاوی الھندیة،کتاب النکاح،الباب الرابع فی الأولیاء،ج1ص287)

قوله ( ليتحقق رضاهما ) أي ليصدر منهما ما من شأنه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع الإكراه والهزل.(ردالمحتار،کتاب النکاح،مطلب ھل ینعقدالنکاح بألفاظ المصحفة،ج4ص86)

قال فإن زوجهما الأب أو الجد يعني الصغير والصغيرة فلا خيار لهما بعد بلوغهما لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ...لأ ن الولایة مقیدۃ بشرط النظر،فعند فواته  یبطل العقد.(الھدایة،کتاب النکاح،باب فی الأولیاءوالأکفاء،ج3ص34)


فتویٰ نمبر : 6325/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں