بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بہن کا بھائی کے کاروبار میں میراث کا مطالبہ کرنا


سوال

میں ڈھائی کا سال کا تھا کہ میرے والد فوت ہوئے، اس کے تین ماہ بعد میری ایک بہن پیدا ہوئی۔ دو سال بعد میری والدہ کا میرے چچا سے نکاح ہوا اور میں اپنے چچا کے ساتھ رہنے لگا اور اس کے ساتھ ذاتی محنت سے  کاروبار شروع کیا عرصہ دراز گزرنے کے بعد میں اپنے چچا سے جدا ہوا۔ اب میری بہن مجھ سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہے۔ کیا اس کا میرے ساتھ کوئی حق بنتا ہے؟ واضح رہے کہ  میرے والد نے کوئی نقد روپیہ نہیں چھوڑا ہے، البتہ  بھائیوں کے ساتھ مشترک گھر اور زمین چھوڑی ہےجو ابھی تک غیر تقسیم شدہ ہے۔

جواب

             واضح رہے کہ والد کی وفات کے بعد اگر کوئی بچہ یا بچی اکثر مدتِ حمل(دوسال) گزرنے سے پہلے پیدا ہوجائے تو اس کو والد کے ترکہ میں حصہ ملے گا۔ ترکہ سے مراد وہ مال وجائیداد ہے جو موت کے وقت میت کی ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ غیر کا حق متعلق نہ ہو۔ جو مال وجائیداد میت کی ملکیت  میں نہ ہو وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔

            لہذا صورتِ مسئولہ میں حسبِ بیان جب سائل کے والد کی وفات کے تین ماہ بعد اس کی بہن پیدا ہوئی تو  والد سے ترکہ میں جو مال یا جائیداد باقی رہ گیا تھا اس میں سائل کی اس  بہن کا بھی  حصہ بنتا ہے، لیکن اس کے علاوہ  سائل نے اپنے چچا کے ساتھ ذاتی سرمایہ سے یا محنت سے جو  کاروبار کیا ہے اس میں بہن کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

لأن التركة ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال۔ (ردالمحتار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:493)

الحمل يرث ويوقف نصيبه بإجماع الصحابة رضي الله تعالى عنهم فإن ولد إلى سنتين حيا ورث وهذا إذا كان الحمل من الميت۔(الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب السابع في ميراث الحمل، ج:6، ص:447)


فتویٰ نمبر : 3119/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں