بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹوں کا باپ کی زندگی میں اپنے نام جائیداد خریدنا


سوال

ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں۔میرے والد صاحب حاجی ثمر گل(مرحوم)ڈبگری میں ایک دکان پر غلے(گندم)کا کاروبار کرتے تھے اور ہم تینوں بھائی دکان پر اپنے والد صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے۔میرے والد صاحب نےپہلے کچھ جائیداد اپنے نام پر خرید لی،جس کو اب ہم نے شرعی لحاظ سے اپنے تین بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم کیا ہوا ہے،جبکہ کچھ جائیداد میرے والد صاحب کی رضامندی اور مشورے سے ہم نے اپنے تین بھائیوں کے نام پر خرید لی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ اس میں ہمارے ساتھ شرعی لحاظ سے بہنوں کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ باپ کی زندگی میں باپ کی نگرانی میں بیٹے باپ کے ساتھ مل کر جو کاروبار کرتے ہیں اور اس سے جو سرمایہ جمع ہوتا ہے وہ سب باپ کی ملکیت شمار ہوتی ہے،لہذا باپ کی وفات کے بعد اس میں تمام ورثا شرعی حصص کے مطابق شریک ہوں گے۔تاہم اگر والد صاحب اپنی زندگی میں اولاد میں سے کسی کے نام جائیداد خرید کر اس پر اس  کو قبضہ بھی دے تو وہ باپ کی طرف سے اس کے لیے ہبہ ہوگااور باپ کی وفات کے بعد وہ ترکہ شمار نہ ہوگا۔

            صورت مسئولہ میں اگر واقعی آپ تین بھائیوں نے کچھ جائیداد اپنے والد صاحب کی رضامندی اور مشورے سے اپنے نام خریدی ہو اور والد صاحب نے اس کا قبضہ بھی آپ کو دیا ہو تو یہ جائیدادآپ تینوں بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی دوسرے ورثا اس میں آپ کے ساتھ شریک نہیں،او ر اگر والد صاحب نے اس کا قبضہ نہ دیا ہو تو پھر یہ جائیداد ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثا میں حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

 

عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: " نَحَلَنِي أَنَسٌ نِصْفَ دَارِهِ " قَالَ: فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِنْ سَرَّكَ يَجُوزُ لَكَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي الْأَنْحَالِ أَنَّ مَا قُبِضَ مِنْهُ فَهُوَ جَائِزٌ، وَمَا لَمْ يُقْبَضْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، قَالَ: " فَدَعَوْتُ يَزِيدَ الرِّشْكَ فَقَسَمَهَا۔(السنن الکبری،کتاب الھبات،باب ما جاء فی ھبةالمشاع،ج:9،ص:158)

الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الشرکة،مطلب:اجتمعافی دارواحدۃ۔۔۔۔فھو بینھما بالسویة،ج:6،ص:502)

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض۔(الفتاوی الھندیة،کتاب الھبة،الباب الأول،ج:4،ص:374)


فتویٰ نمبر : 3120/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں