بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ پیکج کرانےکاحکم


سوال

ایک شخص لوڈکی دکان کامالک ہے،جہاں پرلوگ آکرلوڈاورانٹرنیٹ کےپیکجزکرواتےہیں،اگردکان دارکوپتہ ہوکہ ایک شخص موبائل کااستعمال حرام اورناجائزمقاصدکےلیےکرتاہے،تواس کوانٹرنیٹ پیکج کرانےسےوہ دکان دارگناہ گارہوگایانہیں؟

جواب

           جس چیزکی ساخت کااصل مقصدحرام اورناجائزکام میں استعمال ہونانہ ہو،البتہ جائزاورناجائزدونوں میں استعمال کیاجاسکتاہو،تواس کی خریدوفروخت  اجارہ یا کاروباربلاکراہت جائزہے۔

            انٹرنیٹ پیکج بھی اسی قسم کی اشیا میں داخل ہےکہ اس کااصل مقصد نیٹ کنکٹ کرناہے،جس سےدنیاکےکونےکونےسےاپنے مقصد کی جائزاورمفید معلومات،تعلیمی مواد حاصل کیےجاسکتےہیں ،اورکئی قسم کےمعاملات طےکیےجاسکتےہیں،تاہم کچھ لوگ اس کوناجائزمقاصدکےلیےبھی استعمال کرتے ہیں، اصل مقصدکےناجائزنہ ہونےکی وجہ سے انٹرنیٹ پیکج کرانےمیں کوئی ممانعت نہیں،تاہم اگردکان دارکوکسی کےبارےمیں قطعی علم ہوکہ یہ اس کوغلط مقصدکےلیےاستعمال کرتاہے،تواس کوانٹرنیٹ پیکج نہ کرنابہترہے۔

 

وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه المعازف.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الجھاد،باب البغاۃ،مطلب فی کراھیة ماتقوم المعصیة بعینه،ج6ص421)


فتویٰ نمبر : 2908/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں