بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

سجدہ سہو سے پہلے تشہد پڑھنا


سوال

اگر کوئی شخص آخری قاعدہ کرنے کے بعدسہواکھڑا ہو جائے،یاد آنے کی صورت میں واپس آجائے،تو سجدہ سہو سے پہلے دوبارہ تشہد پڑھے گا یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ ترک واجب پر سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے اور سجدہ سہوسلام کے بعددو سجدوں ، تشہداور پھر سلام کا نام ہے،لہذا اگرکوئی شخص آخری قاعدہ کرنے کے بعد سہوا کھڑاہو جائے اور یاد آنے کی صورت میں واپس ہو جائے،تو چونکہ اس نے سلام جو کہ واجب ہے،میں تاخیر کی ہے،لہذا وہ سلام پھیر کر سجدہ سہو کرے گا،اس پر سجدہ سہو سے پہلے تشہد پڑھنا نہیں،اس لیے کہ تشہد کے بعدسہوا کھڑا ہونے سے تشہد باطل نہیں ہوتا۔

 

( وإن قعد)الجلوس ( الأخير ) قدر التشهد ( ثم قام ) ولو عمدا وقرأ وركع ( عاد ) للجلوس لأن ما دون الركعة بمحل الرفض ( وسلم ) فلو سلم قائما صح وترك السنة لأن السنة التسليم جالسا(من غير إعادة التشهد ) لعدم بطلانه بالقيام۔۔۔۔۔( وسجد للسهو ) لتأخير السلام۔(مراقي الفلاح،كتاب الصلاة،باب سجود السهو،ص:180)

(وإن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم)وقال ابن عابدينؒ تحت قوله: (عاد وسلم) أي عاد للجلوس لما مر أن ما دون الركعة محل للرفض. وفيه إشارة إلى أنه لا يعيد التشهد، وبه صرح في البحر(ردالمحتار مع الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب سجود السهو،ج:2،ص:553)


فتویٰ نمبر : 8943/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں