بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

منذورہ بکری کی بجائےدوسرا جانور ذبح کرنا


سوال

ایک آدمی نے نذر مانی  کہ اگر میرے بیٹے کی شادی ہوئی تو میں فلاں بکری( متعین) ذبح کروں گا، اب اس کے بیٹے کی شادی ہوئی، لیکن اس کے مہمان زیادہ ہیں جن کے لیے یہ بکرا ناکافی ہے،تو یہ شخص چاہتا ہے کہ اس کے بدلے کوئی زیادہ طعام تیار کرے تاکہ سب مہمانوں کے  لیے کافی ہو جائے۔ تو کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے ؟

جواب

              فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی معین چیز کی نذر  مان لے تو اس کے لیے اس چیز کے بدلے اس کی قیمت یا اس قیمت کی برابر دوسری چیز  صدقہ کرنا جائز ہے ، اور منذورچیز کے مستحق صرف فقراء ہیں۔

             صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی شخص معین بکری کی نذر مان لے  اور بعد میں اس کے علاوہ دوسرے جانور کو ذبح کرنا چاہے تو یہ شرعا جائز ہے ، لیکن یاد رہے کہ منذور چیز صرف فقراء کو کھلانا جائز ہے،  ناذر نہ اس سے خود کھا سکتا ہے اور نہ مالداروں کو کھلا سکتا ہے۔

 

نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه. (الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الأيمان،ج:5، ص:525)

(قوله: أي مصرف الزكاة والعشر)۔۔۔ وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني۔ (رد المحتار، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:3، ص:283)

هذا في الأضحية الواجبة والسنة سواء إذا لم تكن واجبة بالنذر، وإن وجبت به فلا يأكل منها شيئا ولا يطعم غنيا سواء كان الناذر غنيا أو فقيرا لأن سبيلها التصدق وليس للمتصدق ذلك۔ (رد المحتار، كتاب الأضحية، ج:9، ص: 473)

ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا، وكذا في الكفارات وصدقة الفطر والعشر والنذر كذا في الهداية۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الفصل الثاني في العروض، ج:1، ص:243)


فتویٰ نمبر : 8936/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں