بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
استعفی دینے کے بعد ملنے والی تنخواہ کا حکم
سوال
میں ایک سرکاری یونیورسٹی میں ملازم تھا ۔24نومبر 2011 کو میں استعفی دے کر باہر ملک چلا گیا۔ میرے استعفی کو پراسیس نہیں کیا گیا تھا، اس لیے مارچ 2012 تک میرے اکاؤنٹ میں تنخواہ آتی رہی جو کل 179000 بنتے ہیں ، ان کا مجھے چند مہینے پہلے پتا چلا۔ اب میں دوسری سرکاری یونیورسٹی میں ملازمت کرتا ہوں تو کیا میں اس رقم سے سامان خرید کر موجودہ یونیورسٹی کو دے سکتا ہوں؟ تاکہ یہ رقم واپس سرکار کو مل جائے، کیونکہ تنخواہ واپس کرنا جانچ پڑتال کی وجہ سے ایک پیچیدہ عمل ہے۔
جواب
واضح رہے کہ کسی کام کے لیے متعین سرکاری ملازم اجیرِ خاص کہلاتا ہے اور اجیر خاص مقررہ ،دت میں مفوضہ ذمہ داری کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کرنے پر اجرت کا مستحق بنتا ہے۔ مفوضہ ذمہ داری کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کیے بغیر اجرت کا مستحق نہیں بنتا۔ نیز بغیر استحقاق کے لی ہوئی رقم کو مالک تک پہنچانا لازم ہے، اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں استعفی دینے کے بعد تنخواہ کی جتنی رقم سائل کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی ہے وہ رقم سرکار کو واپس کرنا لازم ہے،لہذا اُسی یونیورسٹی کے اکاؤنٹ وغیرہ کے ذریعے رقم واپس کردی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر کسی دوسری یونیورسٹی یا پھر کسی دوسرےسرکاری ادارے میں جہاں ممکن ہو وہاں رقم جمع کرادی جائے۔
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الإجارة، باب ضمان الأجير،ج:9، ص:(90
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، مطلب في من ورث مالا حراما،ج: 7، ص:301)
لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔( شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:96، ص:61)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں