بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نماز پڑھنے کے بعد بدن سے بہتاہواخون دیکھنا


سوال

ایک شخص نماز پڑھ کر فارغ ہوا،بعد میں دیکھا کہ اس کے بدن سے خون بہہ گیا تھا،اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟  وقت کے اندر  اور وقت کےبعد دیکھنے کا کیا حکم ہے؟اور  اگر "خروج عن التقلید بعد العمل"کرے تو کیا ذمہ سے بری ہوگا؟

جواب

         ائمہ احناف کے ہاں اگر کسی شخص کےبدن سے خون نکل کربہہ جائےتواس سےوضو ٹوٹ جاتاہے،حضرت تمیم داری ؓ سےروایت ہے"قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الوضوءمن کل دم سائل"( سنن الدار قطنی،رقم:27)،ترجمہ:" رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ وضو لازم ہے ہر بہتے ہوئے خون سے"اور وضو  نماز کے لیے شرط ہے،بےوضو ہونے کی صورت میں نماز ادا نہیں ہوتی ۔

           چنانچہ اگر کوئی شخص نمازسے فارغ ہو کر دیکھے کہ اس کے بدن سے خون بہہ گیا ہے،تو اگر اس کو یہ یقین ہو کہ نمازکے دوران یا اس سے پہلے خون بہہ گیا ہےتو وہ نمازکااعادہ کرےگااوراگر یہ یقین نہ ہو توپھراس پر اعادہ  لازم نہیں۔نیز"خروج عن التقلید بعدالعمل" یعنی جب ایک شخص کوئی عمل كرے ،اس كے بعداسے پتہ چلے کہ عمل فاسد ہوا ہے،لیکن دوسرے مذہب  کے اصول کے مطابق  وہ عمل فاسد نہ ہوا ہو,تو اپنے عمل کو درست کرنے کے لیے خود کواپنے امام کی تقلید سےخارج متصور کرلے،تو یہ فقہاے کرام کے ہاں جائز نہیں،لہذاایساکرنے سے ذمہ فارغ نہیں ہوگا۔

 

عن أبى هريرةؓ قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- :« لا صلاة لمن لا وضوء له ، ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه »(سنن الكبرٰى للبيهقي،كتاب الصلاة،باب التسمية على الوضوء،رقم:198،ج:1،ص:43)

والمعاني الناقضة للوضوء: كل ما خرج من السبيلين، والدم والقيح والصديد إذا خرج من البدن فتجاوز إلى موضع يلحقه حكم التطهير۔(مختصر القدوري،كتاب الطهارة،ص:41)

(قوله وفي الدم من آخر ما رعف) وفي المحيط قال في الدم لا يعيد حتى يستيقن؛ لأن الدم قد يصيبه في الطريق۔( حاشيةالشلبي على تبيين الحقائق،كتاب الطهارة،ج:1ص:103)

الأصل إضافة الحادث إلى أقرب أوقاته  الحادث : هو الشيء الذي كان غير موجود ثم وجد فإذا اختلف في زمان وقوعه وسببه فما لم تثبت نسبته إلى الزمان القديم ينسب إلى الزمن الأقرب منه(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،المادة:11،ج:1،ص:28)

وأن الحكم الملفق باطل بالإجماع،وأن الرجوع عن التقليد بعد العمل باطل اتفاقا،وهوالمختارفي المذهب۔ (الدرالمختارعلى صدر ردالمحتار،مقدمة،ج:1،ص:177)


فتویٰ نمبر : 8940/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں