بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا
سوال
ميں جب نماز ميں قرأت كرتا ہوں ، تو آنکھیں کھلی رکھنےکی صورت میں آگے نہیں پڑھ سکتا بلکہ مختلف قسم کے وسوے آتے ہیں اور تلاوت بھی بول جاتا ہوں ، البتہ آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کی صورت میں یہ مسائل پیش نہیں آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں میرے لیے آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے یا پڑھانے کی اجازت ہے یا یہ عمل مکروہ شمار ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ نماز کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ نمازی آنکھیں کھلی رکھے ، تاکہ قیام کے دوران نظر سجدے کی جگہ پر، رکوع میں پاؤں کی انگلیوں پر اور سجدے میں ناک پر جمی رہے ۔فقہائے کرامؒ نے بلاضرورت آنکھیں بند کرنے کو مکروہِ تنزیہی قراردیا ہے ۔البتہ اگر آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا خشوع میں یقینی اضافے کا باعث ہو تو اس کی گنجائش ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق نمازی کا خشوع و خضوع کے حصول یا وساوس سے بچنے کے لیے آنکھیں بند کرنے کی گنجائش ہے ۔
(وتغميض عينيه) للنهي إلا لكمال الخشوع ،وقال ابن عابدينؒ:(قوله للنهي) أي في حديث «إذا قام أحدكم في الصلاة فلا يغمض عينيه» رواه ابن عدي إلا أن في سنده من ضعف وعلل في البدائع بأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده، وفي التغميض تركها. ثم الظاهر أن الكراهة تنزيهية، كذا في الحلية والبحر، وكأنه لأن علة النهي ما مر عن البدائع، وهي الصارف له عن التحريم (قوله إلا لكمال الخشوع) بأن خاف فوت الخشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره، بل قال بعض العلماء إنه الأولى۔(ردالمحتارمع الدرالمختار ، کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا ، ج:2 ص: 413)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں