بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

اولادکےنفقہ کی مدت


سوال

میان بیوی کےدرمیان عدالت میں تنسیخِ نکاح ہوکربچے(لڑکے،لڑکیاں)ماں کوحوالہ کیےگئے،اورعدالت نےان کانان نفقہ پانچ ہزارروپےماہانہ فی کس کےحساب سےلازم کیا۔اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ صورت میں باپ اپنےبچوں کےلیےکتنی عمرتک نان نفقہ اداکرنےکاشرعاپابندہوگا؟

جواب

               فقہائےکرام کی تصریات کےمطابق باپ پربیٹوں کانفقہ ان کےبالغ ہونےتک واجب ہے،اوربیٹیوں کانفقہ تب تک واجب ہے،جب تک وہ نکاح نہ کرلےیا ان کےپاس مال نہ آجائے،لیکن حقِ پرورش ماں کولڑکےمیں سات سال تک اورلڑکی میں بلوغت تک حاصل ہوتاہے،اس کےبعدشرعابچےباپ کےحوالےکیےجائیں گے،اگرکہیں ماں اپناحقِ پرورش کی مدت پوراکرنےکےبعدبھی بچےباپ  کونہیں دیتی،توبچوں کانفقہ پھربھی باپ کےذمےواجب ہوتاہے،البتہ باپ بچوں کواپنےحقِ پرورش میں لانےکےلیےعدالت کورجوع کرسکتاہے،لیکن حقِ پرورش نہ ملنےسےباپ سےبچوں کانان نفقہ ساقط نہیں ہوتا۔

            صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرعدالت نےمیاں بیوی کےدرمیان تنسیخِ نکاح کرنےکےبعدبچےماں کےحوالےکیےہوں،توشرعابیٹوں کےبالغ ہونےتک اوربیٹیوں کی شادی تک ان کانان نفقہ باپ پرلازم ہوگا،البتہ ماں کاحقِ پرورش ختم ہونےکےبعدباپ بچوں کواپنےپرورش میں لانےکےمطالبےکاحق رکھتا ہے۔

 

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد...فإن أبى أن يكتسب وينفق عليهم يجبر على ذلك ويحبس كذافي المحيط... الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة...إذا كان الابن من أبناء الكرام ولا يستأجره الناس فهو عاجز وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية...ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال... ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،باب الحضانة،ج5ص267)

( والحاضنة ) أما أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب ،ولو اختلفا في سنه فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا ( والأم والجدة ) لأم أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية.(الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب الحضانة،ج5ص267)


فتویٰ نمبر : 6315/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں