بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تیجہ، ساتوں اور چالیسواں منانا


سوال

ميت كے ايصال ثواب كے ليے ميت كی وفات كے تيسرے،ساتويں ،چاليسويں روز خيرات كرنا اور اسى طرح  سال بعد خيرات كرنا اور اس خيرات كو لازم سمجهنے کا  شريعت  ميں   كيا حكم ہے؟

جواب

               میت کے ایصال ثواب   کے لیے مخصوص ایام میں خیرات وصدقات  کرنا اور  لوگوں کو  دعوت دینا اور باقاعدہ ایک تقریب کی شکل دینا  ایسے امور ہیں جن کا شرعا  کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے فقہائے کرام  نے  تیجے،ساتویں  اور چالیسویں  کو بدعت کے زمرے میں شامل کیا ہے  تا ہم  ایسے مواقع پر جو کھانا  پکایا جاتا ہے  اس کا کھانا حرا م نہیں ہے  لیکن  اہل علم  اور مقتدی حضرات ایسے کھانے سے اجتناب کریں تا کہ ان کی شرکت کرنے سے لوگ جواز پر دلیل پیش نہ کریں اور ایک بدعت کو حوصلہ نہ ملے۔

 

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة ، وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال "كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة " وفي البزازية ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول ، والثالثُ،وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،مطلب في كراهية الضيافةمن اهل الميت،ج:3،ص:148)


فتویٰ نمبر : 4813/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں