بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مورث سے پہلے فوت ہو جانے والے بیٹے کا حصہ


سوال

میرے  چار بیٹے ہیں ان میں سے "سلمان فاروق "فوت ہوچکے ہیں، اس کی ایک بیوہ ایک بیٹا  اور دو بیٹیاں ہیں۔ میرے نام ایک مکان ہے۔ کیا اس مکان میں ان کا کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعتِ مطہرہ کی رو سے  اگر کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے والد کی زندگی میں فوت ہوجائے تو والد کے مال و جائیداد میں اس کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مکان واقعی سائل کی ملکیت ہو  اور اس کا بیٹا اس کی زندگی میں فوت ہوچکا ہوتو اس مکان میں "سلمان فاروق"کی بیوہ اور اولاد کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔ تاہم اگر مرحوم بیٹے کا والد اپنے پوتے اور پوتیوں کو اپنی طرف سے حصہ دینا چاہےیا ان کے حق میں  وصیت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

 

الإرث يثبت بعد موت المورث۔(البحر الرائق، کتاب الفرائض، ج:9، ص:364)

وشروطه ثلاثة۔۔۔ ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الفرائض، ج:10، ص:491)


فتویٰ نمبر : 3116/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں