بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کے بعد مہرمؤجل کی ذمہ داری


سوال

 شوہر کی وفات کے بعد نکاح میں لکھا گیا  مہرِ مؤجل کس کے ذمہ ہوگا؟

جواب

            واضح رہے کہ مہر چاہے مؤجل ہو یا معجل  ہو اس کی ادائیگی شوہر کے ذمے لازم ہوتی ہے۔ اگر شوہر نے اپنی زندگی میں مہر ادا نہیں کیا تو اس کی موت کے بعد اس کے ترکہ  میں سے اس کی ادائیگی کی جائے گی۔

             لہذا صورتِ مسئولہ میں  نکاح میں لکھا گیا مہرِ مؤجل شوہر کی وفات کے بعد  بھی شوہرکے ترکہ سے ادا کیا جائے گا۔ اگر ترکہ میں کوئی مال نہ ہو تو اس کے والدین یا بھائیوں سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً﴾(النساء:24)

ولا يطالب الأب إلخ لأن المهر مال يلزمه ذمة الزوج ولا يلزم الأب بالعقد۔(رد المحتار، كتاب النكاح،باب المهر، مطلب في ضمان الولي المهر، ج:4، ص:286)

والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء۔(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني في ما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:370)


فتویٰ نمبر : 6313/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں