بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ظہر کی سنت ترک کرنے والے امام کی اقتداء


سوال

اگر کوئی امام ظہر کی سنتوں کو چھوڑ کر فرض نماز پڑھاتا ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ امام ایسا شخص ہونا چاہیے  جوشرعی مسائل کا زیادہ علم رکھنے والا ہو اور قرآن مجید اچھی طرح پڑھنے پر قادر ہواور متبع شریعت اور پابند سنت ہو۔

          صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ امام کسی معتبر شرعی عذر اور وقت کی تنگی کی وجہ سے سنت چھوڑ دیتا ہےاور بعد میں سنتیں پڑھتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہےاوراگر وہ مستقلا اور قصدا سنتیں نہیں پڑھتا اورنہ بعدمیں اس کو پڑھتا ہے تو ایسے شخص کو مستقل امام بنانا کراہت سے خالی نہیں ،تاہم اگر متبادل متبع شریعت اور متبع سنت امام میسر نہ ہو اور مقتدی بھی ان جیسے کوتاہیوں کے شکار ہوں تو  اس صورت میں مذکورہ امام کے پیچھے نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔

 

(والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع).(الدرالمختار،کتاب الصلوۃ،باب الإمامة،ج:2،ص:294)

ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام يستحق حرمان الشفاعة، لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «من ترك سنني لم ينل شفاعتي» . اهـ. وفي التحرير: إن تاركها يستوجب التضليل واللوم،. اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطھارۃ،باب أرکان الوضوء أربعة،ج:1،ص:220)


فتویٰ نمبر : 8932/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں