بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار ماشے سونا اورساڑھے چھ ماشے چاندی پر وجوب زکوۃ


سوال

پچھلے چھ سالوں میرے پاس چار ماشے سونا اور ساڑھے چھ ماشے چاندی موجود تھی،مجھے علم نہیں تھاکہ میں صاحب نصاب ہوں۔امسال مجھے پتہ چلاکہ اس پر قربانی واجب ہے،تو میں نے کچھ پیسے نکال کر قربانی کی،ابھی میرے پاس ستر ہزار روپے مالیت کا سونا اور چاندی موجود ہے۔تو کیا پچھلے چھ سالوں کی زکوۃ مجھ سے ساقط ہے یااسی مالیت میں ادا کروں گا؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ ہر اس شخص پر واجب ہے جو کامل نصاب کا مالک ہواور اس پر سال گزر جائے،یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقدی یا سامان تجارت ہو۔تاہم اگر کسی کے پاس دو ناقص نصاب ہوں(یعنی کچھ سونا ہو اور کچھ چاندی )تو پھر ان کو اجزا کے اعتبار سے ملا یا جائے گا،اگر  نصاب پورا ہوتا ہو تواس پر زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق چار ماشے سونا اور ساڑھے چھ ماشے چاندی چونکہ دو ناقص نصاب ہیں ،اور اگراجزا کے اعتبار سےدونوں کوملایا جائےتو ایک  نصاب پورا نہیں ہوتا،لہذا اس پر زکوۃ لازم نہیں۔

 

ومنها كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الأول في تفسيرها،وصفتها،وشرائطها،ج:1،ص:233)

ولو ضم أحد النصابين إلى الآخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة فلا بأس به ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرا ورواجا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الثالث في زكاةالذهب والفضة والعروض،ج:1،ص:241)


فتویٰ نمبر : 8933/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں