بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر نفع کی ایک صورت


سوال

ہمارے علاقےمیں  بعض لوگ مارکیٹ بنانے کے لیے لوگوں سے پیسے لیکر  ان سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم مارکیٹ بنانے کے بعد آپ کو دکان کرایہ پر دیں گے اور آپ کا قرض  بھی واپس دیں گے یا کرایہ میں تھوڑا تھوڑا(نصف کرایہ یاثلث کرایہ) محسوب کریں گے ، لوگ اس شرط پر قرض دیتے ہیں تو کیا یہ  وعدۂاجارہ شمار ہوگا؟ نیز  یہ قرض پر نفع لینے کے زمرے میں داخل    ہوگا یا نہیں؟

جواب

            شریعتِ مطہرہ کی رو سے قرض کا معاملہ کرتے وقت کوئی ایسی شرط لگانا درست نہیں جس میں قرض دینے والے کا فائدہ ہو، بلکہ قرض خواہ کا شرط لگا کر کسی بھی صورت میں فائدہ  حاصل کرنا سود کے زمرے میں داخل ہوکر ناجائز اور حرام ہے۔

            صورتِ مسئولہ کے مطابق یہ معاملہ قرض لینے کے بدلے دکان اجارہ پر دینے کا وعدہ کرناہے، البتہ قرض خواہ کا اس شرط پر  قرض دینا  کہ مارکیٹ بننے کے بعد اسے دکان کرایہ پر دیا جائےگا،قرض پر نفع کی شرط لگانا ہے اس وجہ سے  یہ معاملہ ناجائز ہے۔

 

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز ۔۔۔ أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب۔(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597)


فتویٰ نمبر : 2910/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں