بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفرمیں غیر مسلم متبوع کی نیت کا اعتبار


سوال

 سفر کے لئے شرط یہ ہے کہ مسافر خود مختار ہو ،غلام یا نوکر نہ ہو،اب اگر کوئی فوجی کسی ایسے کمانڈر کے ماتحت سفر میں ہو جو غیر مسلم  ہو تو اس سفر میں  بھی یہ فوجی اس کافر کمانڈر کی نیت کا تابع ہوگا یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  اپنے اختیار سے سفر واقامت نہیں کر سکتا ہو ، بلکہ کسی اور کا تابع ہو تو اس کی اپنی نیت معتبر نہ ہوگی بلکہ متبوع یعنی جس کا یہ تابع ہے اس کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر وہ سفر کی نیت کرے تو تابع پر بھی سفر کے احکامات لاگو ہوں گے اور اگر متبوع اقامت کی نیت کرے تو تابع بھی مقیم ہوگا، چاہے متبوع مسلم ہو یا غیر مسلم۔

          صورت مسٔولہ میں اگر کوئی فوجی کسی غیر مسلم کمانڈر کے تابع ہو تو سفر اور اقامت کے احکام میں وہ کمانڈر کی نیت  کے تابع ہوگا ، اس کی اپنی نیت کا اعتبار نہ ہوگا ۔

 

وكل من كان تبعا لغيره يلزمه طاعته يصير مقيما بإقامته ومسافرا بنيته وخروجه إلى السفر، كذا في محيط السرخسي فيصير الجندي مقيما في الفيافي بنية إقامة الأمير في المصر، كذا في الكافي في نواقض الوضوء الأصل أن من يمكنه الإقامة باختياره يصير مقيما بنية نفسه ومن لا يمكنه الإقامة باختياره لا يصير مقيما بنية نفسه حتى أن المرأة إذا كانت مع زوجها في السفر والرقيق مع مولاه والتلميذ مع أستاذه والأجير مع مستأجره والجندي مع أميره فهؤلاء لا يصيرون مقيمين بنية أنفسهم في ظاهر الرواية، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج:1، ص:201)

قال في «السير الكبير» : والأسرى من المسلمين في أيدي أهل الحرب هم له قاهرون إن أقاموا به في موضع يريدون أن يقيموا به خمسة عشر يوماً فعليه أن يكمل الصلاة وإن كان الأسير لا يريد أن يقيم معهم، وإن كان الأسير يريد أن يقيم في موضع خمسة عشر يوماً وأخرجوه من ذلك الموضع يريدون مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة لأن الأسير مقهور مغلوب في أيديهم، وكان سفره وإقامته بهم، كالعبد مع مولاه والقائد مع الأعمى والتلميذ مع الأستاذ.(المحيط البرهاني،كتاب الصلاة، الفصل الثاني والعشرون في صلاة السفر،ج:2،ص:133)


فتویٰ نمبر : 8930/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں