بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
عقدنکاح کےوقت لڑکی کےحقیقی والد کےنام کی جگہ پرپالنےوالےکانام لینا
سوال
ایک لڑکی بنام عائشہ جوزاہد کی بیٹی ہے، زاہدنے پیدائش کےبعد اپنےخالہ زادبیٹےقاسم کودےدیا،قاسم نےاس کی پرورش کی۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ عقدنکاح کےوقت اس لڑکی کےنام کےساتھ والد کےنام کی جگہ زاہدکانام لیاجائےگا،یاقاسم کا،جبکہ مذکورہ لڑکی کےمیٹرک اسناد تک والدکےنام کی جگہ قاسم کانام لکھاجاچکاہے۔نیزسننےمیں آیاہے کہ اگرعقدنکاح کےوقت قاسم کانام لیاجائےگا، یالکھاجائےگاتولڑکی کی ماں کانکاح اس کےوالد کےساتھ ختم ہوجائےگا۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
شرعی نقطۂ نظرسےکسی دوسرےکی اولادکولےکرپالنےسےوہ حقیقی اولاد کادرجہ حاصل نہیں کرسکتی، بلکہ بدستوراپنےحقیقی والدین سےاس کارشتہ قائم رہتاہے۔
صورت مسئولہ کےمطابق جب قاسم نےعائشہ نامی لڑکی کوپیدائش کےبعدلےکرپالا،یااس کومنہ بولی بیٹی قرار دیا،اسی طرح اس كےسرکاری کاغذات میں والد كےخانےميں اپنانام درج کروایاتواس سےیہ اس کاحقیقی ونسبی باپ نہیں بنا،بلکہ اس کاحقیقی ونسبی باپ زاہدہی ہے،چنانچہ عقدنکاح کےدوران مذکورہ لڑکی کےنام کےساتھ اس کےحقیقی اورنسبی والد کانام لیناضروری ہے،پالنےوالےکانام بوجہ جھوٹ اورغلط بیانی پرمبنی ہونےکےلیناجائز نہیں۔
جہاں تک پالنےوالےکےنام لینےکی وجہ سے لڑکی کی ماں کےنکاح کےختم ہونےکی بات ہےتویہ ایک من گھڑت مسئلہ ہے،شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔تاہم اگروہ لڑکی مجلس نکاح میں حاضرنہ ہواورگواہ بھی اس کونہ جانتےہوں توپھروالدکےنام کی جگہ دوسرےکانام لینےکی وجہ سےنکاح صحیح نہ ہوگا،بلکہ دوبارہ گواہوں کےسامنےنیاعقدکرنالازم ہے،البتہ اگروہ لڑکی گواہوں اورحاضرین مجلس کےدرمیان معروف ومشہورہوتوپھرغیروالدکےنام کی جگہ کسی دوسرےکانام لینایابالکل باپ کانام ذکرنہ کرنےکی وجہ سےعقدنکاح متاثرنہیں ہوتا، لہذاغیروالد کےنام لینےکےباوجود نکاح درست ہوگا،کیونکہ نسب بیان کرنےسےمقصودمعرفت ہوتی ہے،اور وہ یہاں پہلےسےحاصل ہے۔
وقوله:﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ﴾ : هذا هو المقصود بالنفي؛ فإنها نزلت في شأن زيد بن حارثة مولى النبي صلى الله عليه وسلم، كان النبي صلى الله عليه وسلم قد تبناه قبل النبوة، وكان يقال له: "زيد بن محمد" فأراد الله تعالى أن يقطع هذا الإلحاق وهذه النسبة بقوله: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ﴾ كما قال في أثناء السورة: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾ [الأحزاب:40] وقال هاهنا: ﴿ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ﴾ يعني: تبنيكم لهم قول لا يقتضي أن يكون ابنا حقيقيا، فإنه مخلوق من صلب رجل آخر، فما يمكن أن يكون له أبوان، كما لا يمكن أن يكون للبشر الواحد قلبان.... وقوله: ﴿ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ : هذا أمر ناسخ لما كان في ابتداء الإسلام من جواز ادعاء الأبناء الأجانب، وهم الأدعياء، فأمر [الله] تعالى برد نسبهم إلى آبائهم في الحقيقة، وأن هذا هو العدل والقسط.(تفسيرابن كثير، سورة الأحزاب، رقم الآية:5، ج:3، ص:610، المكتبة الإمدادية، مكة المكرمة)
وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه، حتى أنزل الله ﴿ادعوهم لآبائهم﴾ [الأحزاب: 5] إلى قوله ﴿ومواليكم﴾ [الأحزاب: 5] فردوا إلى آبائهم، فمن لم يعلم له أب، كان مولى وأخا في الدين "(الصحيح للبخاري، كتاب النكاح، باب الأكفاء فى الدين، رقم الحديث:5088، ج:3، ص:1450، الطاف اينڈسنزكراتشي )
وكذا الظاهر أنه لا فرق في أمر الدعوة بين كون المدعو ذكرا وكونه أنثى لكن لم نقف على وقوع التبني للإناث في الجاهلية والله تعالى أعلم.(روح المعاني، سورة الأحزاب، ج:21، ص:149، دارإحياءالتراث العربي)
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب النکاح، ج:4، ص:90، دارالكتب العميلة)
(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح.(تنويرالأبصارمع الدرالمختار، كتاب النكاح، ج:4، ص:96، دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں