بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق معلق کے وقوع سے بچنے کی ایک صورت


سوال

:عبدالرازق ایک کرکٹ کا پلیر ہے،  اس كا ٹیم کے دوستوں کے ساتھ جهگڑا ہوا عبدالرازق نے تین طلاق لیا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں کھیلوں گا عبدالرازق ٹیم میں رجسٹرڈ بھی ہے وہ دوسرے ٹیم میں نہیں کھیل سکتا ۔ابھی عبدالرازق واپس آنا چاہتا ہے کہ دوستوں کے ساتھ کھیلے ، لیکن عبدالرازق نے تین طلاق کی  شرط رکھی ہے کیا تین طلاق سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے؟

جواب

        اگر کسی شخص نے بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا تو شرط کی موجودگی میں طلاق واقع ہو جائے گی۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر  اس کرکٹ پلیئر نے ٹیم کے دوستوں کے ساتھ جهگڑےکے دوران  ان كے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر تین طلاقوں کو معلق کیا ہو،تو اس کے بعد جب یہ اس ٹیم کے لوگوں کے ساتھ کرکٹ کھیلے گا  تو  اس کی بیوی  پرتین  طلاق  واقع ہو جائیں  گی۔

تاہم تین طلاق سے بچنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ  یہ شخص  اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دے، اور پھر جب عدت گزر جائے تو  یہ شخص ان لوگوں کے ساتھ کرکٹ کھیلے ۔ اس وقت چونکہ اس کی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہو گی  اس لیے اب اس شخص کا ان لوگوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے اس پر کوئی  طلاق واقع نہ ہو گی، اور اس کی قسم بھی پوری ہو جائے گی اور شرط لغو ہو جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد  یہ شخص دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرے۔ اور پھر اگر وہ کھیلے گا تو کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ نکاح کے بعد اسے دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا ۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج1، ص420)

فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط،ج3، ص355)


فتویٰ نمبر : 6323/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں