بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

مرغی کی دمچی تکہ کھانے کا شرعی حکم


سوال

آج کل مرغی کی دمچی تکہ کے طور پر کھانا بہت مشہور ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مرغی کی شرم گاہ کے اوپر جو چربی ہے وہ پکائی جاتی ہے اور یہ حلال ہے، جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مرغی کی شرم گاہ ہے اور یہ ناجائز ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا دمچی تکہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

جانور میں سات اعضا(بہتا ہوا خون، آلہ تناسل،خصیتین،مادہ جانور كی شرم گاہ،غدود،مثانہ،پِتہ)  کھانا ممنوع ہے،اس کے علاوہ باقی تمام اعضا کھاناحلال ہے۔  جہاں تک مرغی کی دمچی کا تعلق ہے تواس کے بارے میں تحقیق کرنے سےمعلوم ہوا کہ دمچی شرم گاہ کے قریب گوشت یا چربی ہوتی ہےجس کو صاف کرکے مرغی کی شرم گاہ سے الگ کیا جاتا ہے ،لہذا اگر واقعی اس کو شرم گاہ سے الگ کیا جاتا ہو اور پھر اس کا تکہ بناکر کھایا جاتا ہو تو اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

                 

"وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول، فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثييان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة."(بدائع الصنائع، كتاب الذبائح والصيود، فصل في ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان، ج: 6، ص:272)

"واعلم أن الأصل في الأشياء كلها سوى الفروج الإباحة... وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة."(مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأنحر، كتاب الأشربه، ج:2، ص: 568)


فتویٰ نمبر : 4870/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں