بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بيوی سے " تم آزاد ہو"تین مرتبہ کہنا


سوال

میرے اور میری بیوی کے دریان لڑائی ہوئی اور میری بیوی بچوں کو لے کر چلی گئی ، جب وہ واپس آئی تو میں نے غصہ میں آکر اس سے کہا کہ :تم آزاد ہو، تم آزاد ہو ، تم آزاد ہو، تین مرتبہ یہ کہا ، جبکہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور نہ ہی میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں اس کو طلاق دوں گا اور نہ میں نے یہ لفظ استعمال کیا کہ تم میری طرف سے آزاد ہو ، بلکہ میں نے صرف یہ کہا کہ : تم آزاد ہو، تم آزاد ہو ، تم آزاد ہو۔اب سوال یہ ہے کہ میری بیوی کو کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، اور کیا ہمارا دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں ، جبکہ ہمارے چار بچے ہیں اور ہماری شادی کو پندرہ سال گزرے ہیں؟

جواب

                واضح رہے کہ لفظِ "آزاد "بذاتِ خود اگر چہ کنائی ہے، جس سے طلاق کا وقوع نیت پر مبنی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے فقہائے کرامؒ نے اس کو طلاقِ صریحی میں شمار کرکے بغیر نیت کے بھی اس سے وقوعِ طلاق کا قول کیا ہے۔

             لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا اپنی بیوی سے  تین دفعہ" تم آزاد ہو"کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور عورت اس پر مطلقہ مغلظہ ہے اور وہ شخص اس سے دوبارہ رجوع یا تجدیدِ نکاح کا حق نہیں رکھتا، تاہم اگر یہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور وہ دوسرا شخص  جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

 

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ»۔(سنن النسائي ، كتاب الطلاق ، باب المطلقة ثلاثا ، ج: 2 ص: 84)

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطلاق ، باب الكنايات ، ج: 4 ص: 530)        


فتویٰ نمبر : 6317/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں