بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں بال،ناخن اورزیرناف بال کاٹنا


سوال

کیا حالت جنابت میں بال، ناخن اور زیرناف بال وغیرہ کاٹ سکتے ہیں یا نہیں؟ میں نے سنا ہے کہ ناپاکی  کی حالت میں بال وغیرہ صاف نہیں کرنا چاہیے؟

جواب

           واضح رہے کہ جنابت حکمی نجاست ہے جو دکھائی نہیں دیتی لیکن بدن کے ہر جز میں حلول کر جاتی ہے، یہاں تک کہ بدن کا ہر بال اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اس کی طہارت کا  ذریعہ غسل ہے،لہذا غسل کرنے سے قبل جو بال یا ناخن کاٹا جائے، وہ نجاست کی حالت میں بدن سے علیحدہ ہوجاتا ہے جس کے لیے بعد ازاں طہارت کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔اس لیے غسل سے قبل جنابت  کی حالت میں بدن سے زائد  بال کاٹنے یا ناخن تراشنے کو فقہاء کرام نے مکروہ تنزیہی لکھاہے۔

 

"حلق الشعر حالة الجنابة مكروه وكذا قص الأظافير"(الفتاوی الھندیة، کتاب الکراھیة، الباب التاسع عشر في الختان، ج:2، ص:404)

"ویکرہ قص الأظفار- في حالة الجنابة وکذا إزالة الشعر لما روی خالد مرفوعاً من تنور قبل أن یغتسل جاء تہ کل شعة فتقول: یارب! سلہ لم ضیعني ولم یغسلني کذا في شرح شرعة الإسلام عن مجمع الفتاوی وغیرہ  لکن ذکر ابن وھبان أنہ لا بأس بہ وأشار إلیہ بقولہ: ومن شاء تنویراً فقالوا: ینور "( الھامش علی حاشیة الطحطاوي علی المراقي الفلاح شرح نورالإيضاح، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ص:430)


فتویٰ نمبر : 4820/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں