بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

فلموں اور ڈراموں ميں نكاح كا حكم


سوال

 نکاح اور طلاق کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ دونوں چیزیں ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوتی ہوجاتی ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ بہت سارے ٹی وی سیریل اور فلموں میں ایکٹر نکاح کرتے ہیں، جس میں باقاعدہ ان سے ایجاب و قبول کروایا جاتا ہے ، کی اس صورت  میں وہ حقیقی میاں بیوی بن جاتے ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح بہت سارے ٹی وی چینلز پر سیریل بھی بناتے ہیں ، جس میں سیٹی ایکٹر مسلم ہوتے ہیں تو کیا ان کا نکاح ہوجائے گا ؟

جواب

            واضح رہے کہ کسی شخص کا گزرے ہوئے حالات کی حکایت اور واقعات بیان کرنے یا کسی دوسرے شخص کے قول کو نقل کرنے پر شرعاً کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا، چنانچہ اگر کوئی شخص طلاق کے مسائل بیان کرتے وقت ایسے جملے استعمال کرے جس طرح کوئی شخص بیوی کو طلاق دینے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس شخص کی غرض صرف مسئلہ بیان کرنا ہو تو اس طرح کے جملے اور الفاظ متکلم کے نکاح پر اثر انداز نہیں ہوتے ۔اسی طرح نکاح کا طریقہ سکھانے کے لیے نکاح کے الفاظ  نقل کرنے سے نکاح منعقد نہ ہوگا ، کیونکہ ان الفاظ کے بولتے وقت متکلم کا تأ سیس اور انشا ءکا قصد نہیں ہوتا بلکہ اس کی غرض صرف مسئلہ سمجھانا یا حکایت نقل کرنی ہوتی ہے ۔البتہ اگر کہیں اس کی مراد محض مسئلہ سمجھانا یا حکایت کرنا نہ ہو بلکہ انشاءنکاح مراد ہو تو اس سے نکاح منعقد ہوگا ۔

          لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق فلموں اور ڈراموں میں دکھایا گیا مرد و عورت کا نکاح چونکہ محض تمثیل اور حکایت کے طور پر ہوتا ہے، یعنی فلم اور ڈراموں میں مرد و عورت صرف پہلے سے تیار اسکرپٹ اور کہانی کی اداکاری کرتے ہیں ، اس لیے اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا ۔تاہم اگر ڈرامے میں کام کرنے والے لڑکا،  لڑکی نےنکاح  ہی کی نیت سے الفاظ ادا کیے ہوں اور گواہوں کی موجودگی میں ایجاب اور قبول کرلیا ہو اور لڑکی پہلے سے کسی اور کی منکوحہ نہ ہو تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔

 

وفي الذخيرة: قال واحد من أهل المجلس للمطربة: این بیت بگوکہ من بتودادم کہ تو جان منی    فقالت المطربة ذلك، فقال الرجل:من پزیر فتم  إذا قالت على وجه الحكاية فقيل: لاينعقد النكاح؛ لإنّها إذا قالت على وجه الحكاية لاتكون قاصدة للإيجاب۔(الفتاوى التاتارخانية ، كتاب النكاح ، ج: 4 ص: 7)

حكى يمين رجل فلما بلغ إلى ذكر الطلاق خطر بباله امرأته إن نوى عند ذكر الطلاق عدم الحكاية واستئناف الطلاق وكان موصولا بحيث يصلح للإيقاع على امرأته يقع لأنه أوقع وإن لم ينو شيئا لا يقع لأنه محمول على الحكاية۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق ، الباب الأول ، فصل فيمن يقع طلاقه ، ج: 1 ص: 353)

كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطلاق ،باب الصريح الطلاق ، ج: 4 ص: 461)


فتویٰ نمبر : 6320/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں