بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بغیر بریزر کے قمیص پہننا


سوال

میں گھر کے اندر قمیص کے نیچے بریزر(سینہ بند )  نہیں پہنتی تا کہ  میں اپنے پستانوں کی قدرتی شکل  برقرار رکھ سکوں ، جب میں چلتی ہوں  تو سینہ بند نہ ہو نے کی وجہ سے پستان ہلتے نظر آتے ہیں ،کیا عورت کے لیے گھر میں باپ ،بھائیوں  اور چچا کے سامنے  بغیر سینہ بند کے قمیص پہنناجائز ہے ؟

جواب

                 واضح رہے کہ اسلام نے عورتوں کو  پردے اورستر کو  چھپانے کا حکم دیا ہے  ،اور ایسے لباس کے استعمال سے منع فرمایا ہے جس سے اعضا ستر نظر آتے ہوں،یا  ان کی ساخت نمایا ں نظر آتی ہو  ۔

             لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر  بریزر کا  استعمال اس طور پر ہو کہ اس سےپستانو ں کا حجم ظاہر ہو رہا ہو ، یعنی اس کے اوپر چست اور تنگ قمیص پہناجائے اور شوہر کے علاوہ محارم یا غیر محارم کے سامنے اسی حالت میں  چلنا پھرناہو تو یہ جائز نہیں ،اور اگر اس کے اوپرڈھیلالباس پہنے اور دوپٹہ چادر وغیرہ   کا اہتمام ہو ،تو شرعااس  کے  پہننے میں کوئی حرج نہیں۔

 

"وَعَن دِحيةَ بن خليفةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً، فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ». فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ: «وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَايَصِفُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد".(مشکاۃ المصابیح،ج:2،ص:1249)

"(قال): أي النبي له (وأمر): أمر من الأمر (امرأتك أن تجعل تحته ثوبا لايصفها): بالرفع على أنه استئناف بيان للموجب، وقيل بالجزم على جواب الأمر، أي لاينعتها ولايبين لون بشرتها لكون ذلك القبطي رقيقًا، ولعل وجه تخصيصها بهذا اهتمام بحالها، ولأنها قد تسامح في لبسها بخلاف الرجل، وفإنه غالبًا يلبس القميص فوق السراويل والإزار. (رواه أبو داود)".( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،ج:7،ص:2790)

لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها(ردالمختارعلي الدرالمختار،كتاب الحظروالاباحة،فصل في النظرواللمس،ج:9،ص:526)


فتویٰ نمبر : 4836/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں