بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کا دائیں ، بائیں اور سامنے کی طرف ہٹنے کا حکم


سوال

اگرایک شخص کسی   آدمی کے پیچھے نماز  پڑھ رہا ہو تو آگے والےآدمی کے لیے کیا یہ جائز ہےکہ وہ دائیں  ،بائیں  یاآگے کی طرف چلا جائے ؟کیا یہ نمازی کے سامنے گزرناشمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ کسی نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ۔لیکن اگرکوئی شخص پہلے سے اس نمازی کے سامنے موجود تھا، تو اس آدمی کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ وہ بھی نماز ختم ہونے کا انتظار کرے،لیکن اگر نماز ختم ہونے سے پہلے وہ دائیں ، بائیں یا سامنے کی طرف چلا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

 

ومحاذاة الأعضاء للأعضاء يستوي فيه جميع أعضاء المار هو الصحيح، كما في التتمة؛ وأعضاء المصلي كلها كما قاله بعضهم أو أكثرها كما قاله آخرون كما في الكرماني. وفيه إشعار بأنه لو حاذى أقلها أو نصفها لم يكره... الرابعة: أن لا يتعرض المصلي ولا يكون للمار مندوحة فلا يأثم واحد منهما كذا نقله الشيخ تقي الدين بن دقيق العيد - رحمه الله تعالى -. اهـ.)رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،مطلب إذا قرأ قوله تعالى جدك، ج:2، ص:401)


فتویٰ نمبر : 8937/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں